خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
مفسرّین نے لکھا ہے کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے جب مسیلمہ کو قتل کیا تو فرمایا کہ قَتَلْتُ فِیْ جَاھِلِیَّتِیْ خَیْرَ النَّاسِ وَقَتَلْتُ فِیْ اِسْلَامِیْ شَرَّ النَّاسِ کہ میں نے اپنے جہالت کے زمانے میں یعنی کفر کی حالت میں بہترین انسان کو قتل کیا وَقَتَلْتُ فِیْ اِسْلَامِیْ شَرَّ النَّاسِ اور میں نے حالتِ اسلام میں اس کو قتل کیا جو انسانوں میں سب سے بڑا شر تھا۔ تِلْکَ بِتِلْکَ؎ اس شر کی تلافی میں اﷲ تعالیٰ نے یہ عظیم الشان خیر کا کام لے لیا۔اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر ہماری آبرو کو کون سنوارے گا ؎ چلی شوخی نہ کچھ بادِ صبا کی بگڑنے میں بھی زُلف اس کی بنا کی شیطان تو ہم سے خطائیں کراکے ہمیں ذلیل کرنا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے اگر ہم ندامت کے ساتھ توبہ کریں تو ہماری زلفوں کو بکھیرنے کے لیے شیطان نے جو ہوائیں چلائی تھیں حق تعالیٰ ہماری ذلتوں کے بکھرے ہوئے بالوں کو پھر سے سنوار دیتے ہیں ؎ چلی شوخی نہ کچھ بادِ صبا کی میں کہتا ہوں ؎ چلی شوخی نہ کچھ اس بے حیا کی یعنی شیطان نے تو کوشش کی تھی کہ اس کو ذلیل کر دو مگر ؎ بگڑنے میں بھی زُلف اس کی بنا کی بس یہ عرض کرتا ہوں کہ تین مرتبہ دو دو رکعت پڑھ کر یہ دعا کرو کیوں کہ حدیث پاک میں آیا ہے: مَا مِنْ عَبْدٍ مُّؤْمِنٍ یَخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ دُمُوْعٌ الٰخ؎ یعنی جس بندۂ مؤمن کی آنکھوں سے بوجہ خشیتِ الٰہی جو آنسو نکلتے ہیں اگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں تو اﷲ تعالیٰ اس بندے پر دوزخ کی آگ حرام فرما دیتے ہیں۔ تو ------------------------------