خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
کیوں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وحی الٰہی سے پتا چل گیا کہ جب بندہ یَاۤاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہتا ہے تو ایک فرشتے سے اللہ پاک فرماتے ہیں کہ میرے بندے سے کہو کہ ارحم الراحمین تمہاری طرف متوجہ ہے مانگو کیا مانگتے ہو؟ یہ حدیث پاک ہے۔ تو گویا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس وحی کے پیشِ نظر صلوٰۃِ حاجت کی دعا کے آخرمیںیَاۤاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ لگوا دیا تاکہ ارحم الراحمین کی رحمت میرے اُمتی کی طرف متوجہ ہو۔ اس نبی رحمت اور اس نبی احسان و کرم پر، ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر،بے شمار صلوٰۃ و سلام نازل ہوں آپ کی شانِ رسالت کے مطابق اور حق تعالیٰ کی شانِ رحمت کے شایانِ شان غیر محدود رحمتیں نازل ہوں۔ لہٰذا یہ عرض کرتا ہوں کہ کوئی حاجت پیش ہو کوئی اضطراری کیفیت ہو تو تین مرتبہ صلوٰۃ الحاجت پڑھو کسی مخلوق سے کوئی کام اٹکے تو یہی دعاکرو جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ سے اسی انداز سے مانگا ہے۔ خود نبی نے مانگا اور اُمت کو سکھایاکہ ان الفاظ سے مانگو۔ اب آپ سوچئے کہ ان الفاظ میں کیا معجزہ ہے ان شااللہ تعالیٰ زندگی میں کوئی حاجت نہیں رکے گی، کوئی مصیبت ایسی نہیں جو نہ ٹلے، کوئی گناہ ایسا نہیں جو نہ چھوٹے۔ رو کر تو دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی دستگیری ہوگی، غیب سے مدد آئے گی اور جتنی ذلتیں اور خواریاں ہیں اللہ اپنی شانِ کرم کے شایانِ شان ان کی تلافی کرتا ہے جیسے بیٹا اگر باپ کو راضی کر لے اور بیٹے سے کچھ خطائیں ہو گئی ہوں جس سے اس کی ذلت کا چرچہ ہو رہا ہو تو باپ کوشش کرتا ہے کہ میرے بیٹے کی ذلت نہایت اعلیٰ شان سے عزت میں تبدیل کر دی جائے۔ تو اپنے ربّا کو جو راضی کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کی خطاؤں کی ذلتوں کی اپنے شانِ کرم کے شایانِ شان تلافی فرما دیتے ہیں۔ چاہیں تو اس سے کوئی کرامت صادر کرا دیں گے یا کوئی عظیم الشان کام لے لیں گے جس سے امت قیامت تک اس کا چرچا ذکرِ خیر سے کرے گی۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اتنی عظیم خطا ہوئی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا سید الشہداء حمزہ رضی اﷲ عنہ کو قتل کر دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کروایا اور ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اور