خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
کہ تم مجاریٔ قضا پرنظر رکھو، جہاں سے فیصلے جاری ہوتے ہیں وہیں سے تمہارا کام بنے گا۔ آگے فرمایا وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اور تعریف کرو تم اللہ کی کیوں کہ مضمونِ درخواست عرض کرنے سے پہلے بادشاہوں کو کچھ القاب سے خطاب کیا جاتا ہے،اﷲ تعالیٰ تو بادشاہوں کے بادشاہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے القاب خود ان کے سکھائے ہوئے ہیںوَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ سب تعریف اﷲ کے لیے جو رب ہے تمام عالم کا۔ آگے ہےاَسْاَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ ہم آپ سے رحمت کے موجبات کو مانگتے ہیں یعنی جن اعمال سے آپ کی رحمت ملتی ہے ان کو مانگتے ہیں یعنی جن اعمال سے عطا ملتی ہیں ان کو مانگو اور جن اعمال سے سزا ملتی ہے ان سے پناہ مانگو وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ اوراپنی بخشش کے عزائم ہمیں عطا کیجیےیعنی ہمارے عزائم ایسے ہوں جو ہمیں آپ کی مغفرت دلوائیں نہ کہ آپ کے غضب کا موجب ہوں۔ اس کے بعد ہے وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّاور ہر نیکی کا غنیمت عطا فرمائیے۔ محدثِ عظیم ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مالِ غنیمت کب ملتا ہے؟ جب جہاد میں فتح ہوتی ہے یعنی نفس کے جہاد میں ہمیں ایسی فتح دیجیے کہ ہر وقت ہم اپنے نفس پر غالب رہیں اور مالِ غنیمت کی نیکیاں ہمیں ملتی رہیں یعنی ہم تہجد، اشراق، اوّابین، تلاوت اور ذکر میں غرق رہیں، نفس ہم کو سستی میں مبتلا نہ کرنے پائے تاکہ ہم فاتحانہ مالِ غنیمت لوٹتے رہیں ۔ مالِ غنیمت کا لفظ لانے کی وجہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے بتائی کہ مالِ غنیمت جہاد میں فتح ہوجانے پر ملتا ہے یہاں غنیمت کے لفظ سے نفس پر فتح حاصل ہونے کی بشارت ہے کہ تم اللہ سے مانگو کہ نفس پر مجھے فتح دے دیجیے۔ ایسا نہ ہو کہ میرا نفس آپ کی نافرمانی میں مبتلا کر کے مجھے آپ کی رحمتوں سے محروم کر دے۔ وَالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ اور مجھے تمام گناہوں سے سلامتی عطا فرمائیے، کیوں کہ جب گناہوں سے محفوظ رہوں گا تو نیکیوں کامالِ غنیمت باقی رہے گا اور آپ کی رحمتوں سے محروم نہ ہوں گا۔ اس کے بعد ہے لَاتَدَعْ لِیْ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہٗ الی یَاۤاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ آخر میں ہے کہ ہمارے سب گناہوں کو معاف کر دیجیے، ہمارے تمام غموں کو دور کر دیجیے، ہماری ہر وہ حاجت جس سے آپ راضی ہوں پوری کر دیجیے اور یَاۤاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ آخر میں لگوایا ، اوریہ کیوں لگوایا؟