تحفہ حرمین شریفین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عمرہ ادا کریگا اور خاتون طوافِ زیارت ادا کریگی ، طوافِ زیارت کے بغیرحج نہ ہوگا ، کیونکہ یہ طواف حج کے فرائض میں سے ہے ۔و لو ترک الطواف کله فعلیه حتما أن یعود بذلک الإحرام ، ولا یجزی عنه البدل . (شر ح اللباب ص ۳۴۵) ( الثانی طواف الزیارۃ ...... وهو رکن لا یتم الحج إلا به ) (شر ح اللباب ص۱۴۲) سوال: اگر طوافِ زیارت سے پہلے میاں بیوی میں مجامعت ہوگئی تو کیا حکم ہے؟ جواب: جس نے طوافِ زیارت اور قصر یاحلق سے پہلے ایسا کرلیا تو ایک بدنہ یعنی اونٹ یا ایک گائے بطور کفارہ کے ذبح کرنا واجب ہوگا اگر میاں بیوی دونوں نے قصر اور طوافِ زیارت نہیں کیا تو دونوں پر بدنہ واجب ہوگا اور توبہ کرنی بھی لازم ہوگی ۔ اور اگر مختلف مجالس میں متعدد بار جماع کیا ہے تو پہلے کے لئے اونٹ اور اس کےبعد ہر ایک جماع کیلئے ایک ایک دم لازم ہے ۔ اور توبہ استغفاربھی کرے۔قال فی الغنية:وأما لو جامع بعدوقوفه بعرفة و لو حال الوقوف أو بعده قبل الحلق و قبل طواف الزیارۃ کله أو أکثره فلم یفسد حجه سواء جامع قبل الرمی أو بعده . وقال الثلاثة : یفسد إذاجامع قبل الرمي و علیه بدنة سواء جامع ناسیا أو عامدا کما فی عامة الکتب و سواء جامع مرۃ أو مرارا إن اتحد المجلس فإن اختلف ولم یقصد بالجماع