تحفہ حرمین شریفین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ترجمہ:حضرت جابر بن عبد اللہ رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :میں نے دیکھا کہ میں ایک مضبوط قلعہ میں ہوں ، اور میں نے ذبح شدہ گائے دیکھی ،تو میں نے مضبوط قلعہ کی تعبیر مدینہ کردی ،اور بقر سے مراد جماعت ہے ، اور اللہ بہتر ہی فرمانے والے ہیں۔ فائدہ:اس حدیث شریف سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ،ایک یہ کہ مدینہ منورہ محفوظ قلعہ ہے، یعنی اسمیں رہنا فتنوں سے، تکالیف سےمحفوظ رہنے کاباعث ہے۔ دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مذبوحہ گائے دیکھی اس میں اس جانب اشارہ تھا کہ صحابہ رضى الله عنهم کی ایک جماعت اس غزوہ (یعنی غزوۂ احد ) میں مقتول ہوگی یعنی جام شہادت نوش کرے گی، اور یہ جو فرمایا کہ ” واللہ خیر،، اس میں اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ مؤمن کيلئے ہر حال میں بہتر ہی کا فیصلہ ہوتا ہے ،اگرجہاد سے صحیح سالم واپس آگیا تو اجر وغنیمت لے کر واپس آتا ہے ، اور اگر جام شہادت نوش کرلیا تو شہید کیلئے جو فضیلتیں ہیں ، وہ اتنی عظیم ہیں کہ ہر ایمان والے کو اس پر رشک ہوتا ہے،اور یہ بھی اس کيلئے بڑی کامیابی اور خیرہے ۔ فضیلت نمبر۶6آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سےمدینہ منورہ کی طرف لوگوں کے قلوب کا کھنچناعن جابررضى الله عنه قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یوماً ونظر إلی الشام فقال : اللهم أقبل بقلوبهم ونظر إلی العراق فقال نحو ذلك ، ونظرقبل کل أفق ففعل ذلك ، وقال اللهم