تحفہ حرمین شریفین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
حج کرکے دکھلایا اور فرمایا : «خذوا عنی مناسککم» یعنی مجھ سے اپنے حج کے احکامات سیکھ لو ۔سنت کا طریقہ ہی ہے جو اللہ سے ملا تا ہے۔ نقش قدم نبی ﷺ کےہیں جنت کےراستے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سے مِلاتے ہیں سُنّت کے راستے (۳) استخارہ ومشورہ کرنا سفرحج وعمرہ سے پہلے ہوشیار تجربہ کار دیندار شخص سے ضروریاتِ سفر سے متعلق مشورہ کرلے اور استخارہ بھی کرے لیکن اگر حج فرض ہے تو نفس حج کے لئے استخارہ کی ضرورت نہیں بلکہ راستہ وقتِ جہاز وغیرہ دیگر امور کیلئے استخارہ کیا جائے البتہ اگر حج نفل ہے تو نفسِ حج کیلئے بھی استخارہ کرے ۔ (۴) اعمالِ حج وعمرہ سیکھنا حجاج ومعتمرین پرلازم ہے کہ حج یاعمرہ کو جانے سے پہلے اعمالِ حج وعمرہ سیکھیں، بغیر سیکھے حج وعمرہ کو نکل پڑیں گے تو طرح طرح کی غلطیوں میں مبتلا ہوجائیں گے ۔ حضرت ابراہیم واسماعیل علی نبینا وعلیہما السلام جب خانۂ کعبہ بنارہے تھے تو اسوقت جو دعائیں کرتے جارہے تھے ان میں ایک اہم دعا یہ بھی تھی:{وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا} [البقرة: 128] (کہ ہمیں بتادیجئے ہمارے حج کے احکام)۔ ان دونوں حضرات کی اس دعا سے قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ مناسکِ حج تمام حجاجِ کرام کو سیکھ کر حج ادا کرنا چاہئے ، تفسیر ابن کثیر ص۱۸۳ ج۱ میں ہے کہ جب ابراہیم ں نے کعبہ شریف کی تعمیر مکمل کردی تو حضرت جبریل ث تشریف لائے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر صفا اور مروہ پر لے گئے