تبلیغ دین مترجم اردو ( یونیکوڈ ) |
|
ہوئی بلکہ اس کے بندوں کی رضا مطلوب ہوئی کہ وہ نیکوکار سمجھیں اور اس کے معتقد ہوں تو گویا بندوں کو اللہ کی بہ نسبت اپنے نفع اور نقصان پر زیادہ قادر سمجھا اور دل میں بندوں کی یہاں تک عظمت بٹھالی کہ عبادت بھی انہی کے نذرگزاردی۔ ریاء کی کیفیت میں کمی بیشی پر گناہ کی کمی وزیادتی: ریاء کو شرک اصغر کہا گیا ہے پھر اس غرض اور نیت میں جتنا فساد زیادہ ہو گا اسی قدر گناہ بھی زیادہ ہوگا کیونکہ بعض ریاء کاروں کا مقصود تو صرف یہی ہوتا ہے کہ لوگ ہماری عزت کیا کریں اور ہمیں مقتداء سمجھیں۔ بعض کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ لوگ ہم کو دیندار سمجھ کر ہمارے پاس امانتیں رکھیں ہم کو اپنی اوقاف کا متولی بنائیں یا یتیموں کے مال ہماری سپردگی میں دیں پس ان کو اپنے قبضے میں لاکر اڑانے کھانے کا موقع ملے ظاہر ہے کہ اس کا گناہ پہلے کی نسبت زیادہ ہے۔ بعض کا منشاء ہوتا ہے کہ ہم کو نیک بخت سمجھ کو عورتیں اور لڑکے ہمارے پاس آنے لگیں اور اس ٹٹی کی اوٹ میں شکار کھیلنے یعنی زنا و لواطت کرنے کا بخوبی موقع ملے یا ان ضعیف دل عورتوں بچوں سے مال ہمارے ہاتھ آئے اور اس فسق و فجور اور لہوولعب میں خرچ کر سکیں۔ ظاہر بات ہے کہ اس کا گناہ پہلی دونوں صورتوں سے زیادہ ہے۔ کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو معصیت کا آلہ اور جبار و قہار پروردگار کی مخالفت کا وسیلہ بنالیا ہے۔(العیاذ باللہ) فصل۔ عبادت کے فرق سے ریاء کی کمی بیشی: اسی طرح جن عبادتوں میں ریا ہوتا ہے وہ بھی مختلف درجے کی ہیں کہ ان میں بعض کا گناہ بعض سے بڑھا ہوا ہے۔ پہلا درجہ: اصل ایمان میں ریاء جیسے منافق کہ اس کے دل میں ایمان تو نام کو بھی نہیں مگر اس نے صورت مسلمانوں کی سی بنارکھی ہے تاکہ لوگ کافر سمجھ کر اس کے جان و مال کو حلال نہ سمجھیں یا مثلا ملحدومرتد جس کا ایمان جاتا رہا مگر وہ کسی مصلحت یا لحاظ سے اپنے آپ کو مسلمان ہی ظاہر کررہا ہے اس ریاء کا گناہ بہت سخت ہے چنانچہ کلام مجید میں مذکور ہے کہ ''منافق جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے۔''