تبلیغ دین مترجم اردو ( یونیکوڈ ) |
|
تیسری آفت: فضول جھگڑا کرنا: رسول مقبولa فرماتے ہیں کہ جو مسلمان باوجود حق پر ہونے کے جھگڑے سے دست بردار ہو جائے تو اس کے لئے جنت میں اعلیٰ محل تیار ہو گا یہ بالکل صحیح ہے کہ برسرحق ہو کر خاموش ہو بیٹھنا بہت دشوار ہے اور اسی لئے حق پر ہو کر جھگڑے سے علیحدہ ہوجانا ایمان کا کمال شمار کیا گیا ہے۔ جھگڑے اور نزاع کی حقیقت: جان لو کسی بات پر اعتراض کرنا اور اس کے لفظ یا معنی میں غلطی اور نقص نکالنا جھگڑا کہلاتا ہے اور اکثر یہ دو وجہ سے ہوتا ہے یعنی یا تو کبر کی بنا پر کہ اپنی بڑائی اور لسانی یا تیز زبانی کااظہار مقصود ہوتا ہے اور یا دوسرے شخص کو چپ کرانے اور عاجز بنا دینے کا شوق ہوجاتا ہے اس لئے مسلمان کو چاہئے کہ جو بات واقعی اور حق ہو تو اس کو تسلیم کرے اور جتنی خلاف واقعی یا غلط ہو تو اس پر سکوت اختیار کر لے البتہ اگر اس غلطی کے ظاہر کرنے میں کوئی دینی فائدہ ہو تو اس وقت سکوت جائز نہیں ہے مگر پھر بھی اس کا ضرور خیال رکھے کہ جو کچھ بیان کرے وہ نرمی اور سہولت سے بیان کرے تکبر اور سختی کے ساتھ نہ کہے۔ فائدہ: کسی پر ظلم ،زیادتی کرنا اورناحق با ت پر ڈٹ جانااس سے بچنا چاہیے۔از محمد حسن عفی عنہ ****