تبلیغ دین مترجم اردو ( یونیکوڈ ) |
|
پانچویں آفت مدح کرنا: تم نے دیکھا ہو گا کہ اکثر واعظوں اور دنیادار مسلمانوں کی عادت ہے کہ مالدار اور صاحب جاہ وچشم لوگوں کی تعریفیں کرتے ان کی شان میں مدحیہ قصیدے لکھتے اور ان کو نذرانے کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ اس میں چار خرابیاں مداح(بہت تعریف کرنے والا) کے حق میں ہیں اور دو برائیاں ممدوح(جس کی تعریف کی جائے) کے حق میں۔ مدح خواں کی خرابیاں تو یہ ہیں: مداح کے حق میں مدح سرائی کا نقصان: اول: ایسی باتیں بیان کی جاتی ہیں جو واقع کے خلاف ہوتی ہیں اور جن کا ممدوح میں نشان بھی نہیں ہوتا ظاہر ہے کہ یہ صریح جھوٹ ہے جو کبیرہ گناہ ہے۔ دوم: محبت کا لمبا چوڑا اظہار کرتے ہیں حالانکہ دل میں خاک بھی محبت نہیں ہوتی اور یہ صریح ریاء اور نفاق ہے جو گناہ و حرام ہے۔ سوم: اٹکل کے تیر چلائے جاتے ہیں اور جو بات یقینی طور پر معلوم نہیں تخمین و گمان (اٹکل) کی بنا پر ان کو واقعی ظاہر کیا جاتا ہے مثلا یہ کہ آپ بڑے متقی ہیں نہایت منصف ہیں حالانکہ رسول مقبولa فرماتے ہیں کہ کسی کی مدح کرنی ہو تو یوں کہاں کرے کہ میرا گمان ہے کہ آپ آیسے ہیں(جب کہے کہ واقعی میں ایسا سمجھتا ہوں تو جھوٹ ہوگا)کیونکہ ظنی باتوں کو واقعی بنانا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ چہارم: اگر ظالم اور فاسق کی مدح کی جاتی ہے اور وہ اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے تو فاسق کو خوش کرنے والا مداح بھی فاسد اور نافرمان ہوا، حدیث میں آیا ہے کہ فاسق کی