تبلیغ دین مترجم اردو ( یونیکوڈ ) |
|
خوب سمجھ لو کہ جو لوگ دنیا کو مقصود سمجھ کر اس کے کمانے میں مشغول ہوجاتے ہیں وہ سدا پریشان رہتے ہیں کہ ان کی طلب کبھی ختم نہیں ہوتی اور ان کی فکر کبھی رفع نہیں ہوتی اس کی آرزو کبھی پوری نہیں ہوسکتی اس کا رنج و غم کبھی دور نہیں ہوسکتا۔ دنیا کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے: حدیث میں آیا ہے کہ رسول مقبولa نے ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہb کا ہاتھ پکڑااور ایک کوڑے کے ڈھیر پر لاکھڑا کیا جہاں مردوں کی کھوپڑیاں اور نجاست و غلاظت کے ڈھیر اور بوسیدہ ہڈیاں اور پھٹے پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اور فرمایا کہ دیکھو! ابوہریرہ(b) یہ ہے دنیا کی حقیقت، ایک وقت وہ تھا کہ ان کھوپڑیوں میں بھی تمہاری طرح امیدیں اور آرزوئیں جوش میں تھیں اور حرص اور ہوس سے لبریز تھیں اور آج کس برے حال میں کوڑے پر پڑی ہیں کہ چند روز میں خاک ہوجائیں گی اور ان کا پتہ و نشان بھی نہ رہے گا اور دیکھو یہ غلاظت اور فضلہ1 جو تم کو نظر آرہا ہے وہ تمہاری غذا ہے جس کے پیٹ کے اندر بھرنے میں حلال و حرام کا بھی امتیاز نہیں ہوتا ایک دن تھا کہ رنگ برنگ کے کھانے بن کر تمہارے پیٹ میں تھا اور آج یہاں کوڑے پر کس گندگی کی حالت میں پڑاہوا ہے کہ اس کی بو سے لوگ بھاگتے اور گھنیاتے ہیں دیکھو یہی پرانے چیتھڑے کسی وقت تمہارے چمک و دمک والے لباس تھے اور آج ان کو ہوائیں ادھر ادھر اڑائے پھرتی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور یہ دیکھو یہ ہڈیاں کسی دن سواری کے جانور اور مویشی تھے جن پر جانیں دیتے اور قتل و قتال کیا کرتے تھے۔ اے ابو ہریرہ !(b) یہ دنیا کی حقیقت ہے جس کا قابل ِ عبرت انجام دنیا میں ظاہر ہوگیا پس جس کو رونا ہو روئے۔ حضرت عیسیٰg پر ایک دن دنیا کی حقیقت منکشف ہوئی انہوں نے دیکھا کہ ایک بدصورت بڑھیا بنائو سنگھار کئے ہوئے زیوروپوشاک پہنے بنی ٹھنی بیٹھی ہے آپ نے پوچھا کہ اے بڑھیا توکتنے لوگوں سے نکاح کر چکی ہے بڑھیا نے جواب دیا کہ بے شمار آدمیوں سے ! وہ نجاست جو بعد از غذا معدہ سے خارج ہو۔