تبلیغ دین مترجم اردو ( یونیکوڈ ) |
|
خرچ کر کے آخرت کا کچھ ذخیرہ جمع کر لیاتھا تو مرتے وقت خوش ہوگا کہ بھیجا ہوا مال وصول کرنے کا وقت آگیا ورنہ رنجیدہ ہوگا اور اس پر مرنا بہت ناگوار گزرے گا۔ روپیہ کا بندہ تباہ ہو۔ سرنگوں (شرم سے سرجھکائے ہوئے) ہو اس کو کانٹا چبھے تو نکالنے والا نہ ملے، یہ حدیث کا مضمون ہے اب تم ہی سوچو کہ جس کو رسول مقبولa ایسی بدعا دیں اس کا کہاں ٹھکانہ؟ فصل: مال مطلقاً مذموم نہیں ہے اور مذموم کیسے ہوسکتا ہے جب کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے کہ ساری مخلوق جسم کے گھوڑے پر سوار ہو کر سفر آخرت طے کررہی ہے اور سواری کو اس مسافر خانہ دنیا میں گھاس دانہ کی ضرورت ہے اور وہ مال کے بغیر نہیں مل سکتا کیونکہ جب تک پیٹ نہ بھرے اس وقت تک عبادت نہیں ہوسکتی لہٰذا قوت و حیات قائم رکھنے کی مقدار کے موافق حاصل کرنا ضروری ہوا۔ ضرورت سے زائد مال کے مضر ہونے کی وجوہات: البتہ اس سے زیادہ مال و متاع ہلاکت کا سامان ہے کیونکہ مسافر بقدر ضرورت ہی توشہ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور جہاں بوجھ زیادہ ہوا تو سفر کرنا بھی اس کو مشکل پڑ جاتا ہے۔ رسول مقبولa نے فرمایا تھا کہ اے عائشہ(c) مجھ سے ملنا ہو تو اتنی ہی دنیا پر قناعت کرو جتنا مسافر کا توشہ ہوتا ہے کہ جب تک پیوند نہ لگ جایا کرے اس وقت تک کرتا نہ اتارا کرو۔ الٰہی محمد(a) کے متعلقین کی معاش بقدر کفایت ہی رکھیو اور زیادہ نہ دیجیوورنہ ہلاک ہو جائیں گے۔ ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا تین وجہ سے مضر ہے: اول: مال کی وجہ سے معصیت پر قدرت حاصل ہوجاتی ہے اور قدرت کے ہوتے ہوئے صبر کرنا اور گناہ سے بچنا بہت دشوار ہے۔ اور جب ضرورت سے زیادہ مال ہی نہ ہوگا تو ظاہر ہے کہ گناہ پورا نہ ہوسکے گا۔ دوم: اگر متمول شخص عابد وزاہد بھی ہو اور مباح ہی لذتوں میں پیسہ خرچ کیا تب بھی اتنا نقصان اس کو ضرور پہنچا کہ اس کے جسم نے چونکہ لذیذ نعمتوںسے پرورش پائی اس لئے