خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
ایمان سے پہلے والی زندگی کو زندگی نہیں فرمایا بلکہ موت فرما رہے ہیں ۔ شکر کرو کہ تم زندہ ہو گئے۔ باپ اور بہن اگر یاد آتے ہیں تو یہ ایک طبعی بات ہے ۔لیکن کیوں کہ وہ حالتِ کفر میں ہیں اس لیے تقاضے پر عمل نہ کریں گے۔ یہ دعا کیا کرو یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اے زندہ تھامنے والے!آپ کی رحمت سے فریاد کر تا ہوں۔ اﷲ تعالیٰحَیُّ یعنی زندہ رہنے والے اور قَیُّوْمُتھامنے والے ہیں۔ گڑ گڑا کے یہ دعا مانگنی چاہیے کہ جب آپ نے ایمان کی دولت میرے دل کو عطا فرمائی ہے تو آپ ہی اس کو تھامے رہیں۔ باپ اور بہن کے لیے بھی دعا کیا کرو کہ اﷲ تعالیٰ انہیں بھی ایمان عطا فرمائیں۔ اس دعا سے تمہیں یہ نفع ہو گا کہ تمہارے دل کو فوراً سکون ہو جائے گا، ایسا معلوم ہوگا جیسے زخم پر کسی نے مرہم رکھ دیا۔ ماں روتے ہوئے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیتی ہے تو سسکی بند ہو جاتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بچہ چلّا کر رو رہا ہے ،بس جہاں ماں نے سر پر ہاتھ رکھا تو سسکی ایسی بند ہو گئی جیسے کسی نے بریک لگا دیا۔ ماؤں کو یہ محبت اﷲ تعالیٰ نے ہی تو سکھائی ہے ؎ مادراں را مہر من آموختم (ماؤں کو یہ محبت میں نے ہی تو سکھائی ہے) انہوں نے اپنی محبت کا ایک حصہ دنیا میں عطا فرما دیا ہے جس میں ماؤں کی محبت بچوں کے ساتھ اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ یہ محبتیں دیکھ رہے ہو اور ننانوے حصے اﷲ تعالیٰ کے پاس ہیں جن کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ جب عزیز یاد آئیں تو اﷲ تعالیٰ کو ہی یاد کر نا چاہیے جو سر پر ہاتھ رکھ کر سسکی بند کردیتے ہیں۔ سوچ لو کہ ایک حصۂ محبت میں جب یہ اثر ہے تو ننانوے حصوں میں کیا ہو گا؟ اصل محبت کر نے والی ذات تو اﷲ تعالیٰ ہی کی ہے اور محبت کے قابل بھی ان کی ہی ذات ہے اس لیے ان کی محبت ساری محبتوں پر غالب رہنی چاہیے۔ ماں باپ بھی ایک دن چھوٹ جاتے ہیں،بہن بھائی چھوٹ جاتے ہیں،اعزا و اقربا بھی چھوٹ جاتے ہیں،استاد و شیخ بھی چھوٹ جاتا ہے،حتیٰ کہ نبی بھی ایک دن چھوٹ جاتا ہے ، صرف اﷲ کی ذات ہے جو قبر میں، برزخ میں، پلِ صراط پر پھر جنّت میں ہمیشہ ہمیشہ ساتھ رہے گی۔ ہمیشہ ان کے ساتھ رہنا ہے دنیا کا ساتھ تو ایک دن چھوٹے گا ۔شکر کرو کہ تم کروڑوں میں سے ایک ہو جسے اﷲ تعالیٰ نے اپنے لیے انتخاب کر لیا ورنہ جو کافروں کے گھروں