خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
دوستی کا حق ادا کر دیا؟ اگر کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو یہی خیال رہتا ہے کہ ابھی دوستی ناتمام ہے ہم سے دوستی کا حق ادا نہ ہو سکا، کتنا ہی قریب ہو جاؤ یہ تمنا پوری نہیں ہو سکتی کہ قربِ کمال کو پہنچ گیا،یہی فکر لگی رہتی ہے کہ دوستی میں ہر لمحہ ہر روز ترقی ہو تی رہے، خواہ جان چلی جائے۔اﷲ والے یہی چاہتے ہیں کہ چاہے جسم کے پرخچے اڑ جائیں لیکن اﷲ کا ایسا قرب نصیب ہو جائے کہ جسم کے ریزہ ریزہ میں ان کا نور سما جائے انہیں کسی مقام پر صبر نہیں آتا، ہر لمحہ قرب میں ترقی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی روح ہر لمحہ پرواز کرتی رہتی ہے۔ دنیا دار تھوڑے سے دین پر قناعت کر لیتا ہے کہ بس نماز روزہ کافی ہے لیکن دنیا کے معاملے میں قناعت نہیں ہو تی، وہاں صبر نہیں آتا بلکہ فکر اور لگن رہتی ہے کہ دوسو گز کا پلاٹ خریدا ہے تو دو سو گز کا اور مل جائے،دنیا کی کسی ترقی پر صبر نہیں آتا حالاں کہ معاملہ بر عکس ہو نا چاہیے تھا کہ دنیا پر تو ضرورت کے درجے میں قناعت کی جاتی اور دین کی ترقی پر صبر نہ آتا لیکن افسوس ہے ہماری عقلوں پر اور ہمارے زوالِ ایمان پر کہ چند روزہ بہار پر عمر خراب کی جارہی ہے اور آخرت پر صبر کر لیا ہے ۔ مولانا رومی رحمۃ اﷲ علیہ نے مثنوی میں بعض مثالیں ایسی دی ہیں جو بظاہر فحش معلوم ہوتی ہیں لیکن ان سے جو سبق نکالتے ہیں اس پر وجد آجاتا ہے ۔ فرماتے ہیں ؎ من نہ خُسپم با صنم با پیرہن یعنی میں نہ سوؤں گا اپنے محبوب کے ساتھ کپڑوں میں ،یعنی آدمی اپنے محبوب کے ساتھ کپڑوں میں سونا پسند نہیں کر تا، کوئی چیز اس کے اور اس کے محبوب کے درمیان حائل نہ رہے ،وہ تو قرب کی انتہا چاہتا ہے ۔قدرت نہیں ورنہ اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اپنا سینہ پھاڑ کر اسے سینے میں چُھپا لوں ۔دنیوی مثال مولانا اسی لیے دیتے ہیں تاکہ لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔ پھر غیرت دلاتے ہیں کہ افسوس دنیوی محبت تو سمجھ میں آجائے اور اﷲ کی محبت کی بات سمجھ میں نہ آئے، اﷲ تعالیٰ کے عاشق بھی اﷲ سے قرب کی انتہا چاہتے ہیں۔وہ اپنے جسم کے لباس کو بھی اُتار پھینکنا چاہتے ہیں ۔جسم کو اﷲ کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتے بلکہ تمنا کر تے ہیں کہ جسم کوہِ طور کی طرح پھٹ جائے اور اُن کی تجلی ریزہ ریزہ میں سما جائے، دل و جان میں اُن کا نور اُتر جائے، عاشق کو قرب کے کسی مقام