خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
والا) اور معرَّف ( تعریف کیا گیا) دونوں نادم ہیں، دنیا میں بھی کچھ نہ ملا اور اﷲ کا غضب اپنے اوپر حلال کر لیا۔ پس یہ فانی حُسن التفات کے قابل ہی نہیں۔ اپنی روح کا رابطہ خالقِ حسن سے قائم کر لو۔ محبت کے قابل صرف ان کی ذات ہے جس کو کبھی زوال نہیں۔ اگر عکس کی طرف دوڑو گے تو اصل سے دوری ہوتی جائے گی اگر حُسن مجازی کی طرف مائل ہو گے تو سر چشمۂ حُسن و جمال یعنی حق تعالیٰ کی ذات پاک سے دوری ہوتی جائے گی، اس لیے حکم ہے قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ بدنظری کو اس لیے حرام فرما دیا کہ یہ پیش خیمہ ہے عشق کا۔آنکھوں سے دیکھو گے تو مجاز کی طرف میلان کا ہونا لازمی ہے ، اگر اس کے قریب ہو گے خواہ نظر سے یا دل سے یا جوارح سے تو متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، اس وقت یہ مراقبہ کافی نہیں کہ یہ تو فانی شے ہے ایک دن مٹی ہو جائے گا، اس وقت کوئی مراقبہ کام نہ آئے گا۔ آگ کے پاس جاؤ گے گرمی پہنچ کر رہے گی،پیٹرول آگ کے پاس جائے گا تو آگ جلا کر خاک کر دے گی۔یہاں صرف مراقبہ کافی نہیں، ترک تعلق ضروری ہے لَاتَقْرَبَا ھٰذِہ الشَّجَرَۃَ اس شجر گندم منہی عنہ کے قریب بھی نہ جانا ورنہ تمہاری بشریت حُسنِ گندم سے مغلوب ہوجائے گی۔ ہر شے کے اندر ایک خاصیت ہے وہ خاصیت اپنا اثر دکھاتی ہے جیسے آفتاب عین عروج پر ہو اس وقت کوئی شخص یہ مراقبہ کرے کہ شام کے وقت یہ غروب ہو جائے گا اور اس کی تمازت باقی نہ رہے گی لیکن آفتاب کے سامنے کھڑا رہے تو کیا ہوگا؟ اس مراقبہ کے با وجود تمازتِ آفتاب اس کو پہنچ کر رہے گی، پسینہ چھوٹ جائے گا ۔معلوم ہوا کہ مراقبہ کافی نہیں ترک تعلق ضروری ہے۔اس وجہ سے وحی الٰہی نے معصیت کے اسباب و مقدمات کو بھی حرام قرار دے دیا۔ اسباب معصیت کے قرب سے بھی ہمیں روک دیا ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جہاں پیٹرول کا ذخیرہ ہو وہاں آگ کی چنگاری بھی رہے؟ اگر چنگاری آئے گی تو آگ لگ جائے گی۔ لہٰذا حق تعالیٰ نے آنکھوں کو نیچی رکھنے کا حکم دے دیا تاکہ کوئی مجازی حُسن کے قریب ہی نہ جائے۔ انگارہ ہاتھ میں لے کر کوئی یہ مراقبہ کرتا رہے کہ یہ فانی ہے کوئلہ ہوجائے گا تو کیا اس مراقبہ سے آگ کی خاصیت بدل جائے گی اور ہاتھ نہ جلے گا ؟یہی وجہ ہے کہ قرب اسباب معصیت سے منع فرما دیا گیا ۔ہاں جب انگارہ بجھ جائے اس وقت اس کو دیکھ کر یہ