خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
صاحب اور دوسرے اکابر علما موجود تھے۔ یہ مضمون سن کر سب عش عش کررہے تھے یہ باتیں کسی مولوی سے جو اللہ والے کی صحبت میں نہ رہا ہو نہ سنو گے۔ ظاہری اعمال کی تاکید تو سب کردیتے ہیں لیکن قلب کے اعمال اور قلب کی نگرانی کی بات ہر ایک نہیں بتاتا، یہ اللہ والے بتائیں گے۔ سالک ظاہری گناہوں سے تو بچتاہے ہی یعنی زبان سے غیبت نہ ہو،ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، نماز میں قلب کو حاضر رکھنا، ذکر کی پابندی کرنا، رشوت و حرام مال سےبچنا، یہ تو آسان ہے لیکن ہر وقت قلب کی نگرانی کرنا،یہ مشکل کام ہے۔ ہر وقت قلب کی نگرانی کرنی چاہیے کہ قلب میں کیا ہورہا ہے۔ بظاہر خاموش بیٹھا ہوا ہے، کوئی عمل نہیں کررہا لیکن اندر کار خانہ چل رہا ہے۔ کبھی کسی سے جلن پیدا ہوگئی، کبھی کسی مسلمان سے اپنےکو بڑاسمجھ رہاہے کہ فلاں فاسق و فاجر ہے اورمیں اللہ والا ہوں، میری حالت اس سے اچھی ہے۔ کبھی دوسرے کو تو حقیر نہیں سمجھ رہا لیکن اپنے آپ کو مقدس اور بزرگ سمجھ رہا ہے اور دل ہی دل میں خوش ہو رہا ہے۔کسی کے مقابلے میں اپنے کو اچھا سمجھنا یہ تکبر ہے اور بغیر نسبت اور تقابل کے اپنے کو اچھا سمجھنا یہ عجب ہے۔ عجب میں کسی کی تحقیر لازم نہیں آتی، کبر میں دوسرے کی تحقیر لازم آتی ہے، دونوں سے پناہ مانگنا چاہیے۔ کبھی جاہ وعزت و شہرت کی طلب دل میں گھس رہی ہے، کسی نے دعا میں روتاہوا دیکھ لیا تو نفس خوش ہورہا ہےکہ اب تو لوگ مجھ سے دعا کرائیں گے، مجھے بزرگ سمجھیں گے، کبھی دل میں ریا پیدا ہورہی ہےیعنی لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی عمل کررہا ہے۔ اسی وجہ سے ہر وقت قلب کی نگرانی کی ضرورت ہے۔ہر وقت قلب پر نگاہ رکھو کہ قلب میں کوئی ایسی چیز تو نہیں گھس رہی ہے جو ہمارے اللہ کو ناراض کردے۔ دل اللہ کا گھر ہے، اس میں کوئی ایسی چیز نہ آنے پائے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو۔ اس لیے دل کی ظاہری سطح پر نہیں دل کی گہرائی میں تلاش کرو کہ کوئی دشمن تو نہیں چھپا ہوا ہے۔ محاذ پر سپاہی دور بین لگا تا ہے تاکہ دور سے نظر آجائے کہ کہیں دشمن ہماری سرحد میں سرنگیں اور بارودیں تو نہیں بچھارہا ہے۔ تم بھی اپنےدل میں دوربین لگالو، دل کو ہروقت سامنے رکھو کہ کہیں نفس و شیطان دل میں ریا کی سرنگیں اور حسد کی بارودیں تو نہیں بچھارہے ہیں،دل میں کسی سے جلن اور حسد تو نہیں پیدا ہورہا