خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِیۡ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعۡبُدُوۡنِ؎ اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین تو بہت وسیع ہے ، پس میری ہی عبادت کرو۔ اگرآج ایک جگہ حرام روزی چھوڑو گے ہم تمہیں دوسری جگہ سے حلال روزی عطا فرمائیں گے۔ تم میرا کہنا مانو ، میری رضا کے مقابلے میں محلہ والوں کا، بیوی بچوں کا ، ماں باپ کا یہاں تک کہ اپنے دل کا بھی کہنا نہ مانو۔اس سے تمہارا دل تو ضرور ٹوٹے گا لیکن اس ٹوٹے ہوئے دل میں ہم آجائیں گے،حدیثِ قدسی ہے: اَ نَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُہُمْ؎ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں زبانِ رسالت سے کہ میں ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہوں۔ دل کن لوگوں کے ٹوٹتے ہیں؟ان ہی کے جو اپنے دلوں کا کہنا نہیں مانتے،بیوی بچوں کا کہنا نہیں مانتے ،یعنی اﷲ کی رضا کے مقابلے میں کسی کی اطاعت نہیں کر تے ۔جب اﷲ کی رضا اور مخلوق کی رضا کا ٹکراؤ ہو تا ہے حتیٰ کہ جب اپنے دل کا ٹکراؤ بھی خالق کی رضا سے ہو تا ہے تو وہ اپنے دل کو ٹھو کر مار دیتے ہیں اور اﷲ کی رضا کو تھامے رہتے ہیں ایسے ہی ویران دلوں میں اﷲ تعالیٰ آجاتے ہیں۔ اﷲ کی محبت میں ہر وقت اپنے جان و مال کی بازی لگا ئے رہو،ان کی محبت پر قناعت نہ کرو، آج ایک آنسو روئے ہو کل دو روؤ یہاں تک کہ آنسو کے دریا بہا دو ؎ اے دریغا اشک من دریا بدے تا نثار دلبرے زیبا شدے اے کاش کہ میرے آنسو دریا ہو جاتے تا کہ میں انہیں اپنے اﷲ پر نثار کر دیتا ۔ ترقی کرو، کسی مقام پر قناعت نہ کرو۔وہ لا محدود ہیں تم اپنے محدود قدموں سے ان کی جانب بڑھو گے تو انہیں کیسے پالو گے ؎ اے برادر بے نہایت در گہے است ------------------------------