خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی لہٰذا آپ مجھے کوئی کرامت دے دیں تاکہ میں اس پر اپنی بزرگی کا رعب جمادوں تاکہ وہ مجھ کو ولی اﷲ سمجھ کر میری بد دعا کے ڈر سے مجھے نہ ستائے۔ آسمان سے آواز آئی کہ اپنی چار پائی پر بیٹھ جا میں اس کو اُڑنے کا حکم دوں گا، پھر اس کو بتانا کہ دیکھ آج میں نے تجھ کو کیسی کرامت دکھائی، اب تو تو مجھے بزرگ مان کر مجھے ستانا چھوڑ دے۔ تو ان کے بیٹھتے ہی چارپائی اُڑنے لگی، انہوں نے اپنے گھر کے صحن کے اوپر سے اُڑاُڑ کر بیوی کو دِکھایا، پھر آکر اس سے پوچھا کہ آج تم نے کوئی بزرگ دیکھا؟ کہا:ہاں! آج ایسے بزرگ دیکھے جو آسمان پر اُڑرہے تھے، میرے صحن پر سے کئی دفعہ گزرے، بزرگ اس کو کہتے ہیں، ایک تو ہے خوامخواہ کا بزرگ بنا ہوا ہے، ہر وقت زمین ہی پر دھرا رہتا ہے کبھی تونے اُڑ کر دکھایا؟ تو انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! وہ میں ہی تھا، اﷲ نے مجھ کو کرامت دی تھی، تو بیوی کہتی ہے توبہ توبہ وہ تم تھے! جب ہی تو کہوں ٹیڑھے ٹیڑھے کیوں اُڑ رہے تھے۔ دیکھا آپ نے کرامت کو بھی اس نے گڑ بڑ کردیا۔ ایک صاحبِ کرامت بزرگ تھے شاہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اﷲ علیہ، ایک شخص ہزار میل دور سے ان سے مرید ہونے آیا، شیخ اس وقت جنگل میں لکڑی کاٹنے گئے ہوئے تھے، اس شخص نے ان کے گھر پہنچ کر ان کی بیوی سے پوچھا کہ شیخ کہاں ہیں، وہ تڑخ کر بولی واہ! شیخ کیا ہے میخ ہے وہ تو، میں تو رات دن اس کے ساتھ رہتی ہوں، وہ کوئی بزرگ وزرگ نہیں ہے، تم لوگ نہ جانے کن چکروں میں پھنس گئے ہو۔ اب وہ بیچارہ رونے لگا کہ یااﷲ! ہزار میل دور سے بزرگ سمجھ کر آیا تھا اور یہ عورت اتنی شکایتیں کررہی ہے، اتنے میں محلہ والوں نے کہا کہ یہ عورت بدتمیز ہے، ان کو بہت ستاتی ہے لیکن ان کا ظرف ہے کہ اس کو برداشت کررہے ہیں، اس کے ساتھ نباہ کررہے ہیں۔ جاؤ! جنگل میں جاکر ان کی بزرگی دیکھو۔ جب وہ جنگل گیا تو دیکھا کہ شاہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اﷲ علیہ شیر پر بیٹھے لکڑی لادے چلے آرہے ہیں اور ہاتھ میں سانپ کا کوڑا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اﷲعلیہ مثنوی میں اس قصہ کو بیان فرمارہے