خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
ارشاد فرمایا کہ شیخ کا ادب یہ ہے کہ خانقاہ میں جانے کے بعد اپنا وجود ہی نظر نہ آئے کہ ہم کیا ہیں۔ سب مریدین اور معتقدین کو سمجھادو کہ شیخ کے سامنے میں شیخ نہیں ہوں، شیخ کے سامنے میں شیخ کا غلام ہوں۔ لہٰذا یہاں کوئی میرا ہاتھ چومے گا یا نصیحت سننے کے لیے مجمع لگائے گا یا جوتے اُٹھائے گا تو میں سختی سے پیش آؤں گا، چاہے کوئی مرید ہو یا غیرمرید ہو سب کو ڈانٹ دو کہ مجھے برباد مت کرو اور بدنصیب مت بناؤ کیوں کہ اگر میں بے ادب ہوں گا تو بے نصیب ہوجاؤں گا کیوں کہ باادب بانصیب اور بے ادب بے نصیب ہوتا ہے۔ اسی طرح شیخ کے ساتھ سفر میں جاؤ توخادم بن کر جاؤ، مخدوم بن کر مت جاؤ کہ مریدوں کے مجمع کو لے گئے، کوئی ہاتھ دبارہا ہے، کوئی پاؤں دبارہا ہے، جب مخدوم بنوگے تو شیخ کی خدمت کیسے کروگے اور نفس کیسے مٹے گا؟ نفس کی چالیں بہت باریک ہوتی ہیں، مخلوق میں عزت دکھاکر نفس اندر اندر خوش ہوتا ہے۔ نفس بہت مشکل سے مٹتا ہے۔ شیخ کے سامنے ذلیل ہوجاؤ، اس کے پاؤں میں خود کو خوب رگڑ وا لو۔ بزرگوں نے لکھا ہے کہ حُبِّ جاہ صدیقین کے سر سے بھی سب سے آخر میں نکلتی ہے۔ شیخ کے انتقال کے بعد بھی اس کا اور اس کی اولاد کا، اس کے بیٹوں کا، اس کے پوتوں کا ادب لازم ہے۔خصوصاً اس کی اولاد، بیٹے پوتے اگر عالم اور حافظ بھی ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے کہ ان کو شیخ کی نسبت بھی ہے اور علمِ دین کی نسبت بھی ہے۔ میرے شیخ حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ جہاں بیٹھتے تھے تو پہلے ایک کپڑا بچھاتے تھے لیکن اپنے شیخ حکیم الامت مجدد الملت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر حاضر ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ادب کی وجہ سے بغیر کچھ بچھائے زمین پر بیٹھ گئے اور رو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو بھی اور آپ کو بھی اور سب کو باادب بنادے اور بے ادبی سے بچائے، آمین۔ آخر میں فرمایا کہ شیخ کے ادب کا یہ مضمون کبھی کبھی مجلس میں سنوادیا کرو۔ احقر مرتب عرض کرتا ہے کہ چند سال پہلے حضرتِ والا نے ایک صاحب کو اجازت بیعت عطا فرمائی۔ انہوں نے اپنی مجلس کا وہی وقت رکھا جو رات کو حضرتِ والا کی مجلس کا وقت ہوتا ہے اور مجلس میں نہیں آئے۔ حضرتِ والا نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا کہ کہاں ہیں؟ معلوم ہوا کہ ان کے گھر پر ذکر کی مجلس ہورہی ہے۔