خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
اٹھا رہے ہیں کیا ہمارا مولیٰ اس سے راضی ہے یا نہیں؟ یہ نہ دیکھو کہ دنیا کا فائدہ ہے یا نہیں۔ سب سے پہلے نظر اس پر جائے کہ اللہ کو پسند بھی ہے یا نہیں۔ دنیا تو تعریف کرے گی، اس کو فائدہ پہنچے گا لیکن وہ انسان بے وقوف ہے جو دنیا کی تعریف کو اہمیت دے اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کو معمولی سمجھے۔ بس یہ ہسپتال اس بنیاد پر قائم ہو رہا ہے کہ سب کام شریعت کے مطابق ہوں۔ عورتوں کو عورتیں دیکھیں گی، مردوں کو مرد دیکھیں گے۔ اس لیے ہم کو خوشی بھی ہے۔ اب اس کے بعد دعا کرلیجیے کہ اللہ تعالی اس کو جس نیت سے بنایا ہے اس نیت کے مطابق کام لیں ۔ اے اللہ! اس ادارے میں علم الادیان تو تھا ہی اب علم الابدان بھی اپنی رحمت سے قبول فرمالیجیے اور اپنی مرضی کے مطابق سب کام کرنے کی توفیق عطافرمائیے۔ اپنی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی نہ اُٹھنے دیجیے۔ ہر قدم آپ کی مرضی کے مطابق اُٹھے۔ ہم کو زندگی بھی عزیز ہے اور آپ کی مرضی کے خلاف زندگی موت ہے۔ جس بات سے آپ ناخوش ہوں اس کے بدلے ہم کو موت عزیز ہے۔ ایک روز مرنا تو ہے ہی، ایسی زندگی لعنتی زندگی ہے جو اللہ کو ناراض کرے۔ اتنا ہی کماؤ جس میں اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوں اور اتنا ہی رفاہی کام کرو جس سے اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوں۔ اگر علمائے کرام بتاتے ہیں کہ فلاں کام میں فائدہ نہیں ہے کیوں کہ اس کام سے اللہ ناراض ہے تو اس سے بہترہے کہ موت کو قبول کرو۔ موت سے کیوں گھبراتے ہو؟ ایک دن تو جانا ہی ہے، لاکھ انتظام کر لو لیکن جو دنیا میں آیا کیا وہ جانے سے بچ گیا؟ دیر سویر سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ قبول فرمالے۔ اپنی رحمت سے کچھ کوتاہیاں ہوں تو اس کو معاف فرما دے،آمین۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ