خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
حیدرآباد سے آئے، حضرتِ والا کھانا تناول فرمارہے تھے، احقر بھی حضرت کے ساتھ کھانا کھارہا تھا۔ گرم بریانی تھی، اس پر حضرتِ والا نے فرمایا کہ مطالعہ سے اور صحبت سے جو دین ملتا ہے اس کا فرق یہی ہے کہ جو اس گرم بریانی میں اور بریانی کے مطالعے میں ہے۔صحبت میں اﷲ کی محبت کی گرم گرم بریانی ملتی ہے، شیخ پر طالبین کے لیے غیب سے علوم وارد ہوتے ہیں جو اس کی زبان سے دل کے درد کے ساتھ بیان ہوتے ہیں اس سے دین کا مزہ جو روح کو ملتا ہے وہ محض مطالعے سے نہیں مل سکتا۔ کتابوں میں جو دین ہے وہ ایسا ہوتا ہے جیسے بریانی پکانے کی ترکیب لکھی ہے کہ اگر عمر بھر اس کو پڑھتا رہے گا تو بریانی کا مزہ نہ پاسکے گا چاہے زبان سے بیان کرے گا لیکن کیوں کہ مزہ چکھا نہیں اس لیے اس کا بیان بے کیف ہوگا اور پکی ہوئی دال پر وہ اپنی بریانی کو فروخت کردے گا اور جسے محبت گرم گرم مل جاتی ہے ایسا شخص دین کو نہیں بیچتا کیوں کہ اس کے دل کو دین کی لذّت مل چکی ہے۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے میں حافظ عبدالقدیر کے کمرے میں، حیدر آباد میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایسا کیوں محسوس ہورہا ہے؟ حیدرآبادیوں کے آنے سے کراچی حیدرآباد بن گیا۔ ایسے ہی بعض بندے زمین پر آتے ہیں لیکن ان کی روحیں عرش پر ہوتی ہیں یعنی ان کی روحوں کا رابطہ عالم آخرت سے ہوتا ہے۔ پس اہل آخرت جہاں بھی چلے جائیں تو ان کی معیت میں زمین و آسمان بدلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، جس عالم سے ان کا تعلق ہے اس عالم کا انعکاس اس عالم فانی پر ہوتا ہے اور دنیا ہی میں جنّت کا مزہ ملنے لگتا ہے ؎ اب وہ زماں نہ وہ مکاں اب وہ زمیں نہ آسماں تم نے جہاں بدل دیا آکے مری نگاہ میں جس دل میں اﷲ تعالیٰ آجاتے ہیں اس کا عالم ہی بدل جاتا ہے اس لیے زمین کچھ اور آسمان کچھ اور نظر آتے ہیں وہ اسی عالم میں ہوتے ہوئے اس میں نہیں ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں دنیا کے کام کرتے رہتے ہیں لیکن دل میں علم کا دودھ بھرا ہوتا ہے۔ جسم کہیں ہوتا ہے، دل کہیں ہوتا ہے ؎