خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
نظرمیں ذلیل ہو جاتی ہے کہ اس نے اپنی تہذیب کو حقیر سمجھا۔جب اس نے اپنی تہذیب کو حقیر سمجھا دوسری قوم اس کو حقیر سمجھنے لگتی ہے۔ اور جو قوم اپنی تہذیب کو برقرار رکھتی ہے دوسری قوم کی نظر میں اس کی عزت ہوتی ہے۔ اپنے کلچر کو فنا کرنا کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔ مدینہ میں ایک عالم نے یوں کہہ دیا کہ انگریزوں کے یہاں یہ بات اچھی ہے کہ صحبت کرنے میں غسلِ جنابت نہیں کرنا پڑتا۔بس اللہ کو یہ بات نا پسند آئی کہ کافروں کے طریقے کو ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طریقے پر ترجیح دے رہا ہے۔ جب اس شخص کا انتقال ہواتو مدینہ میں اس کو دفن کردیا گیامگر مدینہ سے لاش اسپین منتقل ہوگئی اور اسپین میں ایک لڑکی مسلمان ہوگئی تھی اور وہیں دفن ہوئی تھی اس کی لاش مدینہ میں اس عالم کی قبر میں پہنچ گئی: اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ؎ جو شخص جس کو پسند کرے گا اسی کے ساتھ ہوگا۔ آخرت بھی تباہ ہوجاتی ہے اس شخص کی جس کے دل میں اللہ و رسول کی عظمت نہیں ہوتی، اور فرماں برداروں کو دنیا میں بھی نقد نفع دیتے ہیں اور سکون اور اطمینان کی زندگی کا ان کے لیے وعدہ فرمایا ہے۔اسلام دنیا کی ترقی سے منع نہیں کرتا۔خوب کماؤ لیکن اللہ کو نہ بھولو۔نوکری کرو البتہ تجارت کو افضل سمجھو۔صحابہ نے تجارت کی تھی۔ایک شخص نے شیخ الہند سے سر سید کی تعریف کی کہ مسلمانوں کو ان کی وجہ سے بڑی بڑی ملازمتیں ملیں۔فرمایا کہ ہاں لعنت کی کرسیوں پر بٹھا دیا ورنہ قوم تاجر ہوتی۔ بڑے بڑے ڈپٹی کلکٹروں کی جائیدادیں رہن میں ہوتیں۔حکومت کو بھی تاجروں سے دبنا پڑتاہے۔حکومت ان سے قرضہ لیتی ہے۔ملازمت سے غلامانہ ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے۔ہمارا تجارت کا مزاج ہمارے غلط قسم کے لیڈروں نے فنا کیا ہے۔بہر حال ملازمت جائز ہے ناجائز نہیں۔افضل اور غیر افضل کی بات کررہا ہوں۔ملازمت کرو یا تجارت ہاتھ پیروں سے کرو۔دل اللہ کے ساتھ رہے پھر یہ ملازمت اور تجارت بھی عبادت ہے۔ آج اگر دین پر عمل کرنے کی ہمت نہیں ہورہی رفتہ رفتہ شروع کرو۔ یہ ------------------------------