خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ؎ کیوں صاحب کہاں ادھار ہے؟ نقد دے رہے ہیں۔دنیا ہی میں بدلا دے رہے ہیں کہ دنیا میں ہم انہیں حیاتِ طیبہ عطافرمائیں گے۔پھر فرماتے ہیں: اَ لَابِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ؎ خوب سمجھ لو کہ دلوں کا سکون ہماری یادہی میں ہے۔اے ایمان والو!ہمیں چھوڑ کر کہاں سکون تلاش کرتے پھرتے ہو؟ہر گز سکون نہ پاؤ گے۔اس آیت میں بھی نقد نفع کا وعدہ فرمایا ہے کہ جو ہماری اطاعت کرے گا ہم اس کے دل کو سکون عطا فرمادیں گے۔ اور فرماتے ہیں: نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؎ ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں بھی تم ہمارے ہو کر تو دیکھو پھر دیکھنا ہم تمہاری کیسی مدد کرتے ہیں۔جب تمہارا کوئی گاڑھا وقت آئے گا ہم اس وقت اپنی دوستی کا حق ادا کریں گے۔ ہم ہر موڑ پر تمہارے کام آئیں گے۔تم ہمیں چھو ڑ کر کہاں جارہے ہو؟ ہمیں چھوڑ کر تم دنیا کی زندگی میں بھی سکون نہ پاسکو گے۔ اللہ کا راستہ ایسا ہے کہ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی دنیا اور آخرت دونوں جگہ کا نفع اس میں ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک راستہ ہو جو باغ کی طرف جا رہا ہو، جہاں رنگ برنگے پھول کھلے ہوں، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں تو اب جو اس راستے کی طرف قدم رکھے گا اگر چہ ابھی باغ سے پانچ میل دور ہے لیکن کیوں کہ یہ باغ کی سمت میں جارہا ہے، اس لیے ادھر سے جو ہوا آئے گی خوشبواپنے ساتھ لائے گی ۔اس راستے میں قدم رکھتے ہی سکون محسوس ہوگا۔پھر جوں جوں آگے بڑھتا رہے گا، سکون میں بھی ترقی ہوتی رہے گی، ہوائیں خوشبو ئے قربِ یار لائیں گی۔ دنیا ہی میں جنّت کا مزہ آجائے گا ------------------------------