خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
گناہوں کو بہا دیتی ہیں، گناہ ہو جائے بس آنسووؤں کا دریا بہا دو۔ اگر شیطان یہ وسوسہ دل میں ڈالے کہ بے وقوف ابھی تو رو رہا ہے اور ابھی پھر یہی گناہ کرے گا ایسی توبہ سے کیا فائدہ تو اس سے کہہ دو کہ کم بخت ! کوئی اور دروازہ بھی نہیں ہے کوئی جائے پناہ ان کے علاوہ نہیں ہے کوئی اور اﷲنہیں ہے، نیکو ں کا بھی وہی اﷲ ہے اور گناہ گاروں کا بھی وہی اﷲ ہے اور ہم گناہ کرتے کرتے تھک سکتے ہیں لیکن ہمارا اﷲ معاف کرتے کرتے نہیں تھک سکتا ۔اس لیے گناہ ہو جائے تو خوب استغفار کیجیے۔ اس کثرت استغفار سے ان شاء اﷲ ایک دن گناہوں کی عادت چھوٹ جائے گی کیوں کہ شیطان دیکھے گا کہ یہ گناہ کر کے اتنا روتا ہے کہ پہلے سے زیادہ مقرب ہو جاتا ہے اس لیے پھر وہ گناہ کرانا چھوڑ دے گا اس لیے استغفارمیں کوتاہی نہ کرنا چاہیے ورنہ گناہوں کے دھبوں سے قلب و روح میلے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔کم گندا کپڑا تو آسانی سے دھل جاتا ہے اور زیادہ گندا کپڑا پھر صاف نہیں ہوتا پھر تیزاب ڈالنا پڑتا ہے ۔اگر استغفار نہ کی اور روح میلی ہوتی چلی گئی تو پھر دوزخ کی آگ کے تیزاب سے تزکیہ کیا جائے گا توکون ہے جو تیزاب سے تزکیہ کرانا چاہتا ہے،عقل مندی تو یہی ہے کہ خود دھوڈالے،رو دھو کر معاملہ صاف کر لے اور اپنے مصلح سے مشورہ بھی ضروری ہے۔ ۶؍ شوال المکرم ۱۳۸۹ھ مطابق۱۷؍ دسمبر ۱۹۶۹ء بعد عشا ء احقر راقم الحروف نے عرض کیا کہ حضرت میرے خاندان کے لو گ مجھے بہت حقیر سمجھتے ہیں کہ ملّا بن کر یہ برباد ہو گیا۔ نہ اس کے پاس کار ہے نہ مکان ہے نہ ذریعۂ معاش ہے۔ ان کی نگاہوں میں میری تحقیر معلوم ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اگر مخلوق نے تمہیں اپنی نگاہوں سے گرا دیا تو بھی مخلوق کو اپنی نگاہوں سے گرا دو ۔ اس گرانے کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ مخلوق کو حقیر سمجھنے لگو، اگر کہیں دوسروں کو حقیر سمجھ لیا تو یہ خود جرم عظیم ہے بلکہ اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ دل میں مخلوق کی کوئی وقعت نہ ہو،لوگوں کو خوش کرنے کی ، لوگوں کی نگاہ میں معزز ہونے کی فکر نہ رہے دل میں یہ خواہش نہ رہے کہ کون سا ایسا کام کر لوں کہ جس سے لوگوں کی نظروں میں میری عزت ہو جائے، دل کو مخلوق سے خالی کر لو۔ اگر لوگ تمہیں دقیانوسی ملّا یا پسماندہ