الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کثرت روایت سے روکنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چونکہ اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ روایت میں خواہ مخواہ کمی بیشی ہو جاتی ہے۔ اس لئے روایت کے بارے میں سخت احتیاط شروع کی۔ اس کے متعلق انہوں نے جو بندشیں کیں آج کل لوگوں کو ان پر مشکل سے یقین آ سکتا ہے۔ اس لئے میں اس موقع پر خود کچھ نہ لکھوں گا۔ بلکہ بڑے بڑے محدثین نے جو لکھا ہے اس کو نقل کر کے لفظی ترجمہ کر دوں گا۔ علامہ ذہبی نے جس سے بڑھ کر ان کے بعد کوئی محدث نہیں گزرا اور جو حافظ اب حجر و سخاوی وغیرہ کے شیخ الشیوخ ہیں۔ تذکرۃ الحفاظ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں لکھتے ہیں۔ وقد کان عمر من وجلہ ان یخطی الصاھب علی رسول اللہ یامرھم ان یقلوا الروایۃ عن بیھم الثلا یتشاغل بالاحادیث عن حفظ القرآن عن قرظۃ بن کعب قال لما سیرنا عمر الی العراق۔ مشی معنا عمرو قال اتدرون لما شیعتکم قالو انعم مکرمۃ لنا۔ قال ومع ذالک و انکم تاتون احل قریۃ لھم دوی بالقرآن کدوی النحل فلا تصدوھم بالاحادیث فتشغلوھم جردوا القرآن و اقلو الروایۃ عن رسول اللہ و انا شریککم فلما قدم قرظۃ قالوا حدثنا فقال نہانا عمر عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ قلت لہ کنت تحدث فی زمان عمر ھکذا فقال لو کنت احدث فی زمان عمر مثل مااحدثکم فضربنی بمخفقۃ ان عمر جس ثلثۃ ابن مسعود و ابا لدرداء ابا مسعود الانصاری رقال قد اکثرتم الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ڈر سے کہ صحابہ کرام روایت کرنے میں غلطی نہ کریں صحابہ کر حکم دیتے تھے کہ رسول اللہ سے کم روایت کریں تا کہ لوگ حدیث میں مشغول ہو کر قرآن کے یاد کرنے سے غافل نہ ہو جائیں۔ قرظہ بن کعب سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم کو عراق پر روانہ کیا تو خود مشایعت کو نکلے اور کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ میں کیوں تمہارے ساتھ ساتھ آیا ہوں؟ لوگوں نے کہا ہماری عزت بڑھانے کو، فرمایا کہ ہاں لیکن اس کے ساتھ یہ غرض بھی ہے کہ تم لوگ ایسے مقام میں جاتے ہو جہاں کے لوگوں کی آواز شہد کی مکھیوں کی طرح قرآن پڑھنے میں گونجتی رہتی ہے تو ان کو حدیثوں میں نہ پھنسا لینا۔ قرآن میں آمیزش نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کم روایت کرو اور میں تمہارا شریک ہوں۔ پس جب قرظہ وہاں پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ حدیث بیان کیجیئے۔ انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم کو منع کیا ہے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابو ہریرہ سے پوچھا کہ آپ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی اسی طرح حدیثیں روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں ایسا کرتا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ کو درے سے مارتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو محبوس کیا اور کہا کہ تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت حدیثیں روایت کرنی شروع کر دی ہیں۔