الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اسی اثناء میں خبر لگی کہ ہمدان میں غدر ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعیم بن مقرن کو ادھر روانہ کیا۔ انہوں نے بارہ ہزار کی جمیعت سے ہمدار پہنچ کر محاصرہ کے سامان کئے۔ لیکن جب محاصرہ میں دیر لگی تو اضلاع میں ہر طرف فوجیں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ ہمدان چھوڑ کر باقی تمام مقامات فتح ہو گئے۔ یہ حالت دیکھ کر محصوروں نے بھی ہمت ہار دی اور صلح کر لی۔ ہمدان فتح ہو گیا۔ لیکن ویلم نے رے اور آذر بائیجان وغیرہ سے نامہ و پیام کر کے ایک بڑی فوج فراہم کی۔ ایک طرف سے فرخان کا باپ سمینیدی جو رے کا رئیس تھا، انبوہ کثیر لے کر آیا اور دوسری طرف سے اسفند یار رستم کا بھائی پہنچا۔ وادی رود میں یہ فوجیں مقابل ہوئیں۔ اور اس زور کا رن پڑا کہ لوگوں کو نہاوند کا معرکہ یاد آ گیا۔ آخر ویلم نے شکست کھائی۔ عروہ جو واقعہ جبیر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس شکست کی خبر لے کر گئے تھے ، اس فتح کا پیغام لے کر گئے تھے تا کہ اس دن کی تلافی ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ویلم کی تیاریاں سن کر نہایت تردد میں تھے۔ اور امداد کا سامان کر رہے تھے کہ دفعتاً عروہ پہنچے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہوا کہ شگون اچھا نہیں، بے ساختہ زبان سے انا للہ نکلا۔ عروہ نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ خدا نے مسلمانوں کو فتح دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعیم کو نامہ لکھا کہ ہمدان پر کسی کو اپنا قائم مقام کر کے روانہ ہوں۔ رے کا حاکم اس وقت سیاؤش تھا جو بہرام چوبیں کا پوتا تھا۔ اس نے دماوند، طبرستان، قوس، جرجان کے رئیسوں سے مدد طلب کی اور ہر جگہ سے امدادی فوجیں آئیں۔ لیکن زمیندی جس کو سیاؤش سے کچھ ملال تھا۔ نعیم بن مقرن سے آ ملا۔ اس کی سازش سے شہر پر حملہ ہوا، اور حملہ کے ساتھ دفعتاً شہر فتح ہو گیا۔ نعیم نے زمیندی کو رے کی ریاست دی اور پرانے شہر کو برباد کر کے حکم دیا کہ نئے سرے سے آباد کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق نعیم نے خود رے میں قیام کیا۔ اور اپنے بھائی سوید کو قومس پر بھیجا، جو بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا۔ اس فتح کے ساتھ عراق عجم پر پورا پورا قبصہ ہو گیا۔ آذربئیجان 22 ہجری (643 عیسوی) (نقشہ دیکھنے سے آذربائیجان کا پتہ اس طرح لگے گا کہ شہر تبریز کو اس کا صدر مقام سمجھنا چاہیے (سابق میں شہر مراغہ دار الصدر تھا)۔ بروعہ اور اردبیل اسی صوبہ میں آباد ہیں۔ آذربائیجان کی وجہ تسمیہ میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ موبد آذر آباد نے ایک آتشکدہ بنایا تھا۔ جس کا نام آباد گان تھا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ لغت پہلوی میں آذر کے معنی آتش کے ہیں۔ اور بائیگان کے معنی ہیں محافظ۔ یعنی نگاہ دارانِ آتش چونکہ اس صوبے میں آتش کدوں کی کثرت تھی۔ اس کی وجہ سے یہی نام ہو گیا جس کو عربوں نے اپنی زبان میں آذر بائیجان کر لیا۔ )