الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اخلاق اسلامی کا محفوظ رکھنا اور ترقی دینا منصب امامت کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ جو تھا وہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا کو جس قسم کے برگزیدہ اور پاکیزہ اخلاق کی تعلیم دی تھی اور جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کا اصلی مقصد تھا جیسا کہ خود ارشاد فرمایا۔ لا تمم مکارم الاخلاق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیض سے قوم میں وہ اخلاق محفوظ رہے اور نئی قومیں جو اسلام میں داخل ہوتی گئیں اسی اثر سے متاثر ہوتی گئیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اسلامی اخلاق کی مجسم تصویر تھے۔ ان کا خلوص انقطاع الی اللہ لذائذ دنیا سے اجتناب حفظ لسان، حق پرستی، راست گوئی یہ اوصاف خود بخود لوگوں کے دلوں میں اثر کر جاتے تھے اور ہر شخص جو ان کی صحبت میں رہتا تھا، کم و بیش اس قالب میں ڈھل جاتا تھا۔ مسور بن مخرمہ کا بیان ہے کہ ہم اس غرض سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہتے تھے کہ پرہیز گاری اور تقویٰ سیکھ جائیں۔ مؤرخ مسعودی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنی کے حالات اس جملے سے شروع کئے ہیں کہ ان میں جو اوصاف تھے وہ ان کے تمام افسروں اور عہدہ داروں میں پھیل گئے تھے۔ پھر نمونے کے طور پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سعید بن عامر وغیرہ کے نام اور ان کے اوصاف لکھے ہیں۔