الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس کے بعد فن تاریخ نے نہایت ترقی کی اور بڑے بڑے نامور مؤرخ پیدا ہوئے۔ جن میں ابو محتف کلبی اور واقدی زیادہ مشہور ہیں۔ ان لوگوں نے نہایت عمدہ اور جدید عنوانوں پر کتابیں لکھیں۔ مثلاً واقدی نے افواج اسلام، قریش کے پیشے ، قبائل عرب کے مناظرات، جاہلیت اور اسلام کے احکام کا توارد، ان مضامین پر مستقل رسالے لکھے ، رفتہ رفتہ اس سلسلے کو نہایت وسعت ہوئی۔ یہاں تک کہ چوتھی صدی ہجری تک ایک دفتر بے پایاں تیار ہو گیا اور بڑی خوبی کی بات یہ تھی کہ ہر صاحب قلم کا موضوع اور عنوان جدا تھا۔ اس دور میں بے شمار مؤرخ گزرے ہیں۔ ان میں جن لوگوں نے بالتخصیص آنحضرت صلی اللہ علی و سلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حالات میں کتابیں لکھیں، ان کی مختصر فہرست یہ ہے : قدیم تاریخیں نام مصنف تصنیف کیفیت مدنی (حجم بن عبد الرحمٰن، المتوفی 170 ھ غزوات نبوی نصر بن مزاخم کوفی کتاب الجمل یعنی حضرت علی رضی اللہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ کی لڑائی کا حال سیف بن عمر الاسدی (سیف بن عمر کوفی خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں فوت ہوا (تہذیب التہذیب جلد 4 ) کتاب الفتوح الکبیر نہایت مشہور مؤرخ ہے معمر بن راشد کوفی (معمر بن راشد کوفی 134 ھ (تہذیب التہذیب جلد 5 ) کتاب المغازی امام بخاری کے استاذ الاستاذ تھے۔ ابو البحر وہب بن وہب کتاب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم و کتاب فضائل الانصار 200 ھ میں انتقال کیا۔