الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
1 – روایت کا باللفظ ہونا ضروری ہے۔ 2 – خبر واحد میں تائیدی شہادت کی حاجت ہے جس کو محدثین کی اصطلاح میں تابع اور شاہد کہتے ہیں۔ 3 – محض راسی کا ثقہ ہونا روایت کے لئے کافی نہیں۔ 4 – خبر واحد ہمیشہ قابل حجت نہیں ہوتی۔ 5 – روایت کے اعتبار میں موقع اور محل کی خصوصیت کا لحاظ شرط ہے۔ علم فقہ فقہ کا فن تمام تر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساختہ و پرداختہ ہے۔ اس فن کے متعلق ان کی قابلیت اور افضلیت کا تمام صحابہ کو اعتراف تھا۔ مسند دارمی میں ہے کہ حذیفہ بن الیمان نے کہا کہ فتویٰ دینا اس شخص کا کام ہے جو امام ہو یا قرآن کے ناسخ و منسوخ جانتا ہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایسا کون شخص ہے۔ حذیفہ نے کہا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ اگر تمام عرب کا علم ایک پلہ میں رکھا جائے اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم دوسرے پلہ میں تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پلہ بھاری رہے گا۔ (استیعاب قاضی بن عبد البر و ازالۃ الخفاء صفحہ 185 حصہ دوم)۔ علامہ ابو اسحٰق شیرازی نے جو مدرسہ نظامیہ کے مدرس اعظم تھے فقہا کے حالات میں ایک کتاب لکھی ہے اس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تذکرے میں صحابہ و تابعین کے اس قسم کے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں اور آخر میں لکھا ہے : ولو لا خوف الاطالۃ لذکرت من فقھہ مایتحیر فیہ کل فاضل یعنی " اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتوے اور ان میں جو فقہ کے اصول پائے جاتے ہیں اس قدر لکھتا ہے کہ بڑے بڑے عالم و فاضل حیران رہ جاتے۔ "