الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
زراعت معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ پہنچ کر اول اول زراعت بھی کی تھی۔ لیکن اس طرح کہ کھیت بٹائی پر دے دیتے تھے۔ تخم خود مہیا کرتے تھے۔ اور کبھی شریک کے ذمے ہوتا تھا چنانچہ صحیح بخاری باب المزرعۃ میں یہ قواعہ بتصریح موجود ہے غذا غذا نہایت سادہ تھی، معمولاً روٹی اور روغن زیتون دسترخوان پر ہوتا تھا۔ روٹی اکثر گیہوں کی ہوتی تھی۔ لیکن آٹا اکثر چھانا نہیں جاتا تھا۔ عام القحط میں جو کا التزام کر لیا تھا۔ کبھی کبھی متعدد چیزیں دسترخوان پر ہوتی تھیں۔ گوشت، روغن زیتون، دودھ، ترکاری، سرکہ، مہمان یا سفراء آتے تھے تو کھانے کی ان کو تکلیف ہوتی تھی۔ کیونکہ وہ ایسی سادہ اور معمولی غذا کے عادی نہیں ہوتے تھے۔ لباس لباس بھی معمولی ہوتا تھا۔ اکثر صرف قمیص پہنتے تھے۔ برنس ایک قسم کی ٹوپی تھی۔ جو عیسائی درویش اوڑھا کرتے تھے۔ مدینہ منورہ میں بھی اس کا رواج ہو گیا تھا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی استعمال کرتے تھے۔ جوتی عربی وضع کی ہوتی جس میں تسمہ لگا ہوتا تھا۔ سادگی اور بے تکلفی نہایت بے تکلفی اور سادگی سے رہتے تھے۔ کپڑوں میں اکثر پیوند ہوتا تھا۔ ایک دفعہ دیر تک گھر میں رہے۔ باہر آئے تو لوگ انتظار کر رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہ تھے۔ اس لئے انہیں کپڑوں کو دھو کر سوکھنے ڈال دیا تھا۔ خشک ہو گئے تو وہی پہن کر باہر نکلے۔ لیکن ان تمام باتوں سے یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ رہبانیت کو پسند کرتے تھے۔ اس باب میں ان کی رائے کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص جس کو انہوں نے یمن کا عامل مقرر کیا تھا۔ اس صورت سے ان سے ملنے کو آیا کہ لباس فاخرہ زیب تن تھا۔ اور بالوں میں خوب تیل پڑا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت ناراض ہوئے اور وہ کپڑے اتروا