الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس اصول کی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبوں میں، تحریری ہدایتوں میں، فرامین میں، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ کے متعلق جو اصولی مسائل بیان کئے وہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام ہیں۔ گو انہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نہ لیا ہو۔ شاہ ولی اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں ہفتم آنکہ مضمون احادیث در خطب خود ارشاد فرمایند تا اصل احادیث بآں موقوف خلیفہ قوت یا بدینکہ بغور سخن نمیر سند در ہندانکہ در متفق علیہ از حضرت صدیق صحیح شد مگر شش حدیث و از فاروق اعظم بہ صحت نرسید مگر قریب ہفتا و حدیث ایں رانمی فمہند و نمی دانند کہ حضرت فاروق تمام علم حدیث را اجمالاً تقویت داوہ اعلان نمودہ۔ احادیث میں فرق مراتب حدیث کے حقحص و جستجو اور اشاعت و ترویج کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کچھ کیا اگرچہ وہ خود مہتم بالشان کام تھا۔ لیکن اس باب میں ان کی فضیلت کا اصلی کارنامہ ایک اور چیز ہے جو انہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ احادیث کی طرف اس وقت جو میلان عام تھا وہ خود بخود احادیث کی اشاعت کا بڑا سبب تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں جو نکتہ سنجیاں کیں اور فرق مراتب پیدا کیا اس پر کسی کی نگاہ نہیں پڑی تھی۔ سب سے پہلے انہوں نے اس پر توجہ دی کہ احادیث میں زیادہ قابل اعتناء کسی قسم کی حدیثیں ہیں؟ کیونکہ گو، رسول اللہ کا ہر قول و فعل عقیدت کیشوں کے لئے گنجینہ مراد ہے ، لیکن یہ ظاہر ہے کہ ایک دوسرے پر فضیلت ہے۔ اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام تر توجہ ان احادیث کی روایت اور اشاعت پر مبذول کی جن سے عبادت یا اخلاق کے مسائل مستنبط ہوتے تھے جو حدیثیں ان مضامین سے الگ تھیں ان کی روایت کے ساتھ چنداں اعتناء نہیں کیا۔ اس میں ایک بڑا نکتہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وہ اقوال و افعال جو منصب رسالت سے تعلق رکھتے ہیں اور جو بشری حیثیت سے متعلق ہیں باہم مختلط نہ ہونے پائیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں " باستقراء تمام معلوم شد کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نظر دقیق و تفریق میان احادیث کہ بہ تبلیغ شرائع و تکمیل افراد بشر تعلق دارد، از غیر آں مصروف می ساخت، لہٰذا احادیث شمائل آنحضرت صلعم و احادیث سنن زوائد در لباس و عادات کمتر روایت می کرد بدووجہ یکے آنکہ اینھااز علوم تکلیفیہ و تشریعیہ نیستِ از سنن زوائد بہ سنن ہدیٰ مشتبہ گرود۔ " (ازالۃ اخفاء حصہ دوم صفحہ 141)۔ سب سے بڑا کام جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس فن کے متعلق کیا، وہ حدیثوں کے تحقیق و تنقید اور فن جرح و تعدیل کا ایجاد کرنا تھا۔