الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
افسران اسلام نے اس پر اتفاق کیا کہ کل فوجیں یکجا ہو جائیں۔ اس کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ اور فوجیں مدد کو روانہ کی جائیں، چنانچہ خالد بن ولید جو عراق کی مہم پر مامور تھے عراق سے چل کر راہ میں چھوٹی چھوتی لڑائیاں لڑتے اور فتح حاصل کرتے دمشق پہنچے اور اس کو صدر مقام قرار دے کر وہاں مقام کیا۔ قیصر نے ایک بہت بڑی فوج مقابلے کے لیے روانہ کی جس نے اجنادین پہنچ کر جنگ کی تیاریاں شروع کیں۔ خالد اور ابو عبیدہ خود پیش قدمی کر کے اجنادین پر بڑھے اور افسروں کو لکھ کر بھیجا کہ وہیں آ کر مل جائیں۔ چنانچہ شرجیل، یزید، عمرو بن العاص وقت مقرر پر اجنادین پہنچ گئے۔ خالد نے بڑھ کر حملہ کیا اور بہت بڑے معرکے کے بعد جس میں تین ہزار مسلمان مارے گئے۔ فتح کامل حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ حسب روایت ابن اسحاق 28 جمادی الاول 13 ہجری (634 عیسوی) میں واقع ہوا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر دمشق کا رخ کیا۔ اور دمشق پہنچ کر ہر طرف سے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ اگرچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں شروع ہوا، چونکہ فتح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں حاصل ہوئی، اس لئے ہم اس معرکہ کی حال تفصیل سے لکھتے ہیں۔ فتح دمشق یہ شہر شام کا ایک بڑا صدر مقام تھا اور چونکہ جاہلیت میں اہل عرب تجارت کے تعلق سے اکثر وہاں آیا جایا کرتے تھے اس کی عظمت کا شہرہ تمام عرب میں تھا۔ ان وجوہ سے خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے اہتمام سے محاصرہ کے سامان کئے۔ شہر پناہ کے بڑے بڑے دروازوں پر ان افسروں کو مقرر کیا، جو شام کے صوبوں کی فتح پر مامور ہو کر آئے تھے۔ چنانچہ عمرو بن العاص باب توما پر، شرجیل باب الفرادیس پر، ابو عبیدہ باب الجلیہ پر متعین ہوئے۔ اور خود خالد نے پانچ ہزار فوج ساتھ لے کر باب الشرق کے قریب ڈیرے ڈالے۔ محاصرہ کی سختی دیکھ کر عیسائی ہمت ہارتے جاتے تھے۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ انکے جاسوس جو دریافت حال کے لئے مسلمانوں کی فوج میں آتے جاتے تھے۔ آ کر دیکھتے تھے کہ تمام فوج میں ایک جوش کا عالم ہے۔ ہر شخص پر ایک نشہ سا چھایا ہوا ہے۔ ہر ہر فرد میں دلیری، ثابت قدمی، راستبازی، عزم اور استقلال پایا جاتا ہے۔ تاہم ان کو یہ سہارا تھا کہ ہرقل سر پر موجود ہے اور حمص سے امدادی فوجیں چل چکی ہیں۔ اسی اثناء میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال کیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے۔ عیسائیوں کو یہ بھی خیال تھا کہ اہل عرب ان ممالک کی سردی کو برداشت نہیں سکتے ، اس لئے موسم سرما تک یہ بادل آپ سے آپ چھٹ جائے گا۔ لیکن ان کو دونوں امیدیں بیکار گئیں۔ مسلمانوں کی سرگرمی جاڑوں کی شدت میں بھی کم نہ ہوئی۔ ادھر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذوالکاع کو کچھ فوج دے کر دمشق سے ایک منزل کے فاصلے پر متعین کر دیا تھا کہ ادھر سے مدد نہ آنے پائے۔ چنانچہ ہرقل نے حمص سے جو فوجیں بھیجی تھیں وہیں روک لی گئیں۔ دمشق والوں کو اب بالکل یاس ہو