الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
مسائل اجماعیہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن مسائل کو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع میں پیش کر کے طے کیا ان کی تعداد کچھ کم نہیں۔ اور کتب احادیث و آثار میں ان کی پوری تفصیل ملتی ہے۔ مثلاً بیہقی نے روایت نقل کی ہے کہ غسل جنابت کی ایک صورت خاص میں (بیہقی نے اس کی تصریح کی ہے ) صحابہ میں اختلاف تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ مہاجرین اور انصار جمع کئے جائیں۔ چنانچہ متفقہ مجلس میں وہ مسئلہ پیش ہوا۔ تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک رائے پر اتفاق کیا۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مخالف رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ جب آپ لوگ اصحاب بدر ہو کر مختلف الرائے ہیں تو آگے چل کر کیا حال ہو گا؟ غرض ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن کے فیصلے پر معاملہ اٹھا رکھا گیا اور انہوں نے جو فیصلہ کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کو نافذ و جاری کر دیا۔ اسی طرح جنازے کی تکبیر کی نسبت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں بہت اختلاف تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مجلس منعقد کی جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اخیر معمول کا پتہ لگایا جائے۔ چنانچہ دریافت ہوا کہ جنازہ کی اخیر نماز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھی اس میں چار تکبیر کہی تھیں۔ اسی طرح بہت سے مسائل ہیں لیکن یہ تفصیل کا محل نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسائل فقہیہ کی تعداد فقہ کے جس قدر مسائل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بروایت صحیحہ منقول ہیں ان کی تعداد کئی ہزار تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے تقریباً ہزار مسئلے ایسے ہیں جو فقہ کے مقدم اور اہم مسائل ہیں اور ان تمام مسائل میں ائمہ اربعہ نے ان کی تقلید کی ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں " وہم چنیں مجتہدین در رؤس مسائل فقہ تابع مذہب فاروق اعظم انداویں قریب ہزار مسئلہ باشد تخمناً" (ازالۃ الخفاء حصہ دوئم 84)۔ مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں منقول ہیں اور شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی مدد سے فقہ فاروقی پر مشتمل رسالہ لکھ کر ازالۃ الخفاء میں شامل کر دیا ہے۔ اصول فقہ یہ تمام بحث تدوین مسائل کی حیثیت سے تھی لیکن فن فقہ کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصلی کارنامہ اور چیز ہے۔ انہوں نے صرف یہ نہیں کیا کہ جزئیات کی تدوین کی بلکہ مسائل کی تفریع و استنباط کے اصول اور ضوابط بھی وضع