الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عبد اللہ بن سعد زیری المتوری 380 ہجری فتوحات خالد بن ولید رضی اللہ ابو الحسن علی بن محمد بن عبد اللہ المدائنی، المتوفی 324 ھ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفاء کے حالات میں کثرت سے کتابیں لکھیں اور نئے عنوان اختیار کئے احمد بن حارث خزاز کتاب المغازی، اسماء الخلفاء و کتابہم مدائنی کا شاگرد تھا عبد الرحمٰن بن عبدہ مناقب قریش نہایت ثقہ اور معتمد مؤرخ تھا عمر بن شبہ، المتوفی 262 ھ کتاب امراء الکوفہ، کتاب امراء البصرۃ مشہور مؤرخ تھا قدماء کی جو تصنیفات آج موجود ہیں اگرچہ یہ تصنیفات آج ناپید ہیں۔ لیکن اور کتابیں جو اسی زمانے میں یا اس کے بعد قریب تر زمانے میں لکھی گئیں، ان میں ان تصنیفات کا بہت کچھ سرمایہ موجود ہے۔ چنانچہ ہم ان کے نام ان کے مصنفین کے عنوان سے لکھتے ہیں۔ عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ المتولد 213 ہجری ولمتوفی 276 ہجری یہ نہایت نامور اور مستند مصنف ہے۔ محدثین بھی اس کے اعتماد اور اعتبار کے قائل ہیں۔ تاریخ میں اس کی مشہور کتاب " معارف " ہے۔ جو مصر وغیرہ میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ نہایت مختصر ہے ، لیکن اس میں ایسی مفید معلومات ہیں جو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں ملتیں۔ احمد بن داؤد ابو حنیفہ دینوی المتوفی 281 ہجری یہ بھی مشہور مصنف ہے۔ تاریخ میں اس کی کتاب کا نام "الاخبار الطوال" ہے۔ اس میں خلیفہ معتصم باللہ تک کے حالات ہیں۔ خلفاء راشدین کی فتوحات میں سے عجم کی فتح کو تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ کتاب پورے یورپ میں بہ مقام لیڈن 1885 عیسوی میں چھپی ہے۔ محمد بن سعد کاتب الواقدی، المتوفی 230 ہجری نہایت ثقہ اور معتمد مؤرخ ہے ، اگرچہ اس کا استاد واقدی ضعیف الروایہ ہے۔ لیکن خود اس کے ثقہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ اس نے ایک کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین اور تبع تابعین کے حالات میں نہایت بسط و تفصیل سے دس بارہ (طبقات ابن سعد کامل 8 جلدوں میں پہلے 1907 عیسوی میں لیڈن میں طبع ہوئی پھر اس کے بعد 1958 عیسوی میں بیروت میں طبع ہوئی ہے۔ ) جلدوں میں لکھی ہے۔ اور تمام واقعات کو محدثانہ طور پر بہ سند صحیح لکھا ہے۔ یہ کتاب طبقات ابن سعد کے نام سے مشہور ہے۔ میں نے اس کا قلمی نسخہ دیکھا ہے۔ اب جرمنی میں بڑے اہتمام سے چھپ رہی ہے۔