الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کیے۔ جن کو آج کل اصول فقہ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے جو اقوال و افعال منقول ہیں وہ کلیتہً مسائل کا ماخذ ہو سکتے ہیں۔ یا ان میں کوئی تفریق ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس بحث پر حجتہ اللہ البالغہ میں ایک نہایت مفید مضمون لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے جو افعال و اقوال مروی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو منصب نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی نسبت خدا کا شکر ہے کہ ما اتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا۔ یعنی پیغمبر تم کو جو دے وہ لو۔ اور جس چیز سے روکے اس سے باز رہو۔ دوسری وہ جن کو منصب رسالت سے تعلق نہیں۔ چنانچہ ان کے متعلق خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا۔ انما انا بشرا اذا امرتکم بشی من دینکم فخذوہ بہ و اذا امرتکم بشی من رائی فانما انا بشر۔ یعنی " میں آدمی ہوں، اس لئے جب میں دین کی بابت کچھ حکم کروں تو اس کو لو۔ اور جب اپنی رائے سے كچھ کہوں تو میں ایک آدمی ہوں۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے طب کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا، یا جو افعال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے عادۃً صادر ہوئے نہ عبارۃً یا اتفاقاً واقع ہوئے ، نہ قصداً یا جو باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مزعومات عرب کے موافق اختیار کیں۔ مثلاً لشکر کشی اور اس قسم کے بہت سے احکام، یہ سب دوسری قسم میں داخل ہیں۔ (حجتہ اللہ البالغہ صفحہ 133)۔ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث کے مراتب میں جو فرق بتایا اور جس سے کوئی صاحب نظر انکار نہیں کر سکتا اس تفریق مراتب کے موجد دراصل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ کتب سیرت اور احادیث میں تم نے پڑھا ہو گا کہ بہت سے ایسے موقع پیش آئے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی کام کرنا چاہا یا کوئی بات ارشاد فرمائی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے خلاف رائے ظاہر کی۔ مثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد اللہ بن ابی کے جنازے پر نماز پڑھنی چاہی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، آپ منافق کے جنازے پر نماز پڑھتے ہیں۔ قیدیان بدر کے معاملے میں ان کی رائے بالکل آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تجویز سے الگ تھی۔ صلح حدیبیہ میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اس طرح دب کر کیوں صلح کی جائے۔ ان تمام مثالوں سے تم خود اندازہ کر سکتے ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان تمام باتوں کو منصب نبوت سے الگ سمجھتے تھے ورنہ اگر باوجود اس امر کے کہ وہ باتیں منصب رسالت سے تعلق رکھتی تھیں ان میں دخل دیتے تو بزرگ ماننا تو درکنار ہم ان کو اسلام کے