دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
یہاں تو تاجیہ (تعزیہ)بنت ہے ۔میں نے یہ سن کر کہا کہ دیکھو تعزیہ مت چھوڑنا ۔ کہنے لگے جی بھلا اسے ہم کب چھوڑنے لگے ۔بعض علماء کو میری اس بات پر خیال ہوا کہ اس نے ایک بدعت کی اجازت دے دی ، میں نے کہا ، بس چپکے بیٹھے رہو ۔یہ کانپور لکھنؤہی میں بدعت ہے ۔مگر یہاں فرض ہے ۔کیوں کہ اس جگہ تعزیہ ہی ان لوگوں کے دین کا وقایہ (بچانے کا ذریعہ) ہے۔ابھی تو ان لوگوں کا تعزیہ بناتے رہنا ہی ان کے اسلام کا محافظ ہے۔ پھر رفتہ رفتہ یہ پکے مسلمان ہوجائیں گے ۔ اس وقت سنت وبدعت کی تعلیم دیدینا ۔ اگر کسی جگہ بدعت ہی لوگوں کے دین کی حفاظت کا ذریعہ ہوجائے تو وہاں اس بدعت کو غنیمت سمجھنا چاہئے ۔ جب تک کہ ان کی پوری اصلاح نہ ہوجائے (چونکہ) یہ بدعت ان کے لئے کفر سے وقایہ (محفوظ رہنے کا ذریعہ) ہے ۔اس لئے ان کو اس سے منع کرنا مصلحت نہیں ۔ اس کے بعد عام مجمع میں بیانات ہوئے ۔اور وہاں کے لوگوں کی سمجھ کے مناسب اعلان کے لئے یہ الفاظ تجویز ہوئے ،کہ ’’مسلمانوں کی کتھاہوگی ‘‘ اوربیان کے لئے ذکر میلاد شریف تجویز ہوا ۔اور شیرینی بھی تقسیم ہوئی اور یہ سب کچھ مقامی رعایت کے سبب ہوا۔ اور جب انہوں نے خوب اچھی طرح وعدہ کرلیا کہ ہم مرتد نہ ہوں گے ، تب واپسی ہوئی۔ (خیر الارشاد لحقوق العباد ملحقہ حقوق وفرائض :ص۲۶۰،اشرف السوانح:ص۲۳۱؍ج۳)