دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
ہیں جو زمانہ دراز سے چلے آرہے ہیں ۔اسی طرح کچھ مستقل مدارس صرف تبلیغ کے لئے قائم کردیں ۔ جن میں صرف اس کام کی تعلیم دی جائے ۔اور مبلغین تیار کئے جائیں ۔ مدارس عربیہ کے ساتھ اس کا م کو ملحق نہ کیا جائے (کیوں کہ) اس سے علوم دین کے کام میں نقص پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔چنانچہ تجربہ سے معلوم ہوجائے گا ۔ (وعظ محاسن اسلام:ص ۲۹۶)ہر مدرسہ میں تبلیغی نظم ہونے کی ضرورت وافادیت علماء کو آج کل مدارس کی طرف بہت توجہ ہے اور ہونا بھی چاہئے ۔ کیوں کہ علوم اسلامیہ کے بقاء کی یہی صورت ہے اور اس کے لئے وہ چندہ وغیرہ کرتے ہیں اور مدارس کا زیادہ تر مدار چندہ پر ہے اور چندہ دینے والے زیادہ تر عوام ہیں تو علماء کو چاہئے کہ عوام کو اپنی طرف مائل کریں ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مدرسہ میں ایک واعظ صرف وعظ وتبلیغ کے لئے رکھا جائے جس کا کام صرف یہ ہو کہ احکام کی تبلیغ کرے ۔اور اس کو ہدیہ لینے سے قطعاً منع کردیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا جائے کہ مدرسہ کے لئے بھی چندہ نہ کرے بلکہ اگر کوئی خود بھی دے توقبول نہ کرے بلکہ مدرسہ کا پتہ بتلادے کہ اگر تم کو بھیجنا ہوتو اس پتہ پر بھیجدو، واعظ کو محصل چندہ نہ ہونا چاہئے ۔محصل چندہ اور لوگ ہیں واعظ کا کام صرو وعظ کہنا ہو ، اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ اس کے وعظ میں جب چندہ کا ذکر نہ ہوگا، تو بے غرض وعظ ہوگا اس کا مخاطب پر بڑا اثر ہوتا ہے پھر عوام کو مدرسہ سے تعلق ہوگا کہ اس مدرسہ سے ہم کو نفع پہونچ رہا ہے اس کی امداد کرنا چاہئے ۔ اور آج کل تو عوام کو یہ بڑا اعتراض ہوتا ہے کہ صاحب ہم کو مدرسہ سے کیا نفع ، بس عربی پڑھنے والوں کو ہی کچھ نفع ہوگا، اور واقعی ایک حد تک یہ اعتراض بھی صحیح ہے اس لئے جن عوام سے آپ چندہ لینا چاہتے ہیں ان کو بھی توکچھ نفع پہونچنا چاہئے جس کی صورت میں نے بتلادی کہ ہر مدرسہ میں ایک واعظ صرف وعظ(تبلیغ) کے لئے ہونا چاہئے ، اگر ایک مدرسہ میں ایک ایک واعظ(مبلغ)ہوجائے تو پھر دیکھئے عوام کو مدرسہ سے کیسا تعلق ہوتا ہے اور