دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کی یہ شان ہے کہ آپ نے تئیس(۲۳) برس میں اس قدر تبلیغ کی اور اس قدر جانفشانی برداشت کی کہ کوئی نہیں کرسکتاکلیات(اصول وعقائد) کی علیٰحدہ تبلیغ فرمائی ، اور جزئیات (فروع ومسائل) کی علاحیدہ پھر جزئیات میں ایک جزئی کی تبلیغ فرمادی یہ تو تبلیغ قولی تھی۔ آپ نے اس پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تبلیغ عملی بھی فرمائی ہے ، یہ سب حضور کی شفقت ہے ۔ (حقوق وفرائض:ص۱۴۰) جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ، وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ (کہ اپنے رشتہ دار اور خاندان والوں کو تبلیغ کیجئے )تو آپ ایک پہاڑ پر چلے گئے اور وہاں جاکر پکارا ، یَاصَبَاحَاہٗ! یَاصَبَاحَاہٗ!اس کلمہ کے معنی تو یہ ہیں کہ اے صبح کے وقت کی لُوٹ ،اے صبح کے وقت کی لُوٹ ۔اور ماخذ(مطلب) اس کا یہ ہے کہ عرب میں رات کو لوٹ مار کم ہوتی تھی، صبح کے وقت لوٹتے تھے کیوں کہ لوگوں کے سونے اور سناٹے کا وقت ہوتا ہے تو جب کبھی کوئی لوٹا جاتا تھا یا اور کوئی امر عظیم پیش آتا تو ، یَاصَبَاحَاہٗ! یَاصَبَاحَاہٗ!پکارا جاتا تھا خواہ صبح کا وقت نہ بھی ہو ۔ یہ آواز سن کر ساری قوم اس کی امداد کے لئے جمع ہوجاتی تھی ، چنانچہ اس محاورہ کے موافق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر یَاصَبَاحَاہٗ پکارا ۔ تھوڑی سی دیر میں ساری قوم جمع ہوگئی ۔ آپ نے فرمایا مجھے جانتے ہو، میں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا ہاں ، آپ محمد امین ہیں آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں خبردوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر ہے جو عنقریب تمہیں آکر ہلاک کردے گا ۔توتم کیا سچ سمجھوگے؟ انہوں نے کہا مَاجَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا ہم نے آپ کو جہاں تک آزمایا سچا ہی پایا ، لہٰذا ہم اسے بھی سچ سمجھیں گے ۔آپ نے فرمایا: بس میں تم کو خدا کے عذاب سے ڈراتا ہوں کہ وہ عنقریب آنے والا ہے اگر تم اس سے بچنا چاہتے ہوتو صدق دل سے کہو لا الٰہ الا اللہ ۔بس یہ سن کر جل بھن گئے، (ابولہب آپ کا چچا تھا چلا کر کہنے لگا)