دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
چودھری کا نام ننوسنگھ تھا۔ اور دوسرے چودھری کا نام ادھار سنگھ تھا ۔ ان کے سروں پر چوٹی بھی تھی ۔ ننوسنگھ اور ادھار سنگھ میں سے دونوں کو یکے بعد دیگرے بلایا گیا تاکہ دونوں کے خیالات آزادی سے معلوم ہوسکیں ۔ گرمی کا زمانہ تھا ۔اس واسطے ان کو شربت پلانا چاہا ۔ مگر انہوں نے عذر کردیا کہ ہم مسلمانوں کے ہاتھ کا نہیں کھاتے پیتے ۔اور بھی بیہودہ رسمیں معلوم ہوئیں ۔جہالت کی یہ حد تھی کہ ان سے پوچھا گیا کہ تم ہندو ہو؟ کہا نہیں ۔پوچھا گیا کہ مسلمان ہو ؟ جواب دیا نہیں ۔ کہا گیا آخر کون ہو؟ بتلایا کہ ہم نومسلم ہیں ۔ میں نے کہا کہ ہم نے یہ سنا ہے کہ تم آریہ ہونے والے ہو اگر اسلام میں کوئی شبہ ہو دور کرلو ۔ ایک نے جواب دیا کہ ہم آریہ کیوں ہوتے ، ان کے یہاں تو نیوگ کا بڑا فحش (گندہ) طریقہ ہے ،جسے کوئی شریف آدمی ہر گز گوارہ نہیں کرسکتا ۔ پھر ہم نے کہا کہ ہاں بھائی بس،تم مسلمان رہنا۔وہ کہنے لگے کہ ہم مسلمان بھی نہیں ہوتے ہم تو نومسلم ہی اچھے رہیں گے ،میں نے کہا اچھا تم نومسلم ہی رہو۔ پھر باتوں باتوں میں بڑے چودھری سے کہا گیا کہ کلمہ بھی آتا ہے ؟ کہنے لگا ہاں آتا ہے ۔کہا گیا سنائو ۔ کہنے لگا ۔بس سنو مت ۔گائوں کے لوگ یہ کہیں گے کہ بڈھا سٹھیا گیا ۔جو کلمہ پڑھت ہے۔ان کو کلمہ پڑھنے سے بھی رکاوٹ تھی ۔وہ ایسے مسلمان تھے ۔بس اسلام کی چند باتیں ان کے اندر موجود تھیں ۔ ایک تویہ ہے وہ ختنہ کراتے تھے ۔دوسرے مُردوں کو دفن کرتے تھے ۔ تیسرے نکاح قاضی سے پڑھواتے تھے ۔مگر ساتھ ہی ہندوئوں کی طرح پھیرے بھی کرتے تھے ۔ اور ایک بات اسلام کی (ان کے عقیدہ کے مطابق ) یہ تھی کہ وہ محرم میں تعزیہ بناتے تھے ۔اور اس کو اتنا بڑا شعار سمجھتے تھے … کہ ادھار سنگھ نے کہا کہ ہم آریہ کیسے بنت ۔ ہمارے