دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
کوتاہی کا سبب تبلیغ اسلام کا کام زیادہ تر شفقت سے ہوا ۔جس کو امت کے حال پر شفقت ہوگی ، دین تبلیغ کی مصیبتیں خوشی سے برداشت کرسکے گا ۔اب چونکہ ہم لوگوں میں شفقت نہیں رہی، اس لئے تبلیغ میں کمی ہورہی ہے ، ہم لوگ جوجھوٹے سچے مولوی کہلاتے ہیں ہم بھی وعظ کہنے وہیں جاتے ہیں جہاں کھانے کو عمدہ عمدہ غذائیں ملیں ۔ نخروں سے بلائیں جائیں ۔ کرایہ ڈبل ملے۔(الاتمام لنعمۃ الاسلام:ص ۲۹۴)مخاطب کی ناگواری اور تعلقات کی خرابی کے اندیشہ سے ترک تبلیغ آج کل عموماً ہر قسم کی تبلیغ اس لئے متروک ہے کہ مخاطب کو اس سے ناگواری ہوتی ہے اور عقائد کی تبلیغ میں یہ ناگواری زیادہ ہوتی ہے ۔تو لوگ سمجھتے ہیں کہ مخلوق کی ناگواری کون اپنے سرلے مگر یہ کوئی عذر نہیں ۔ اگر ہمارے اسلاف بھی اس کا خیال کرتے تو آج ہم میں سے کسی کو بھی کلمہ شہادت نصیب نہ ہوتا ۔آخر ہمارے آباو اجداد میں کوئی تواول المسلمین ہوگا، اس کو جس نے اسلام کی تبلیغ کی تھی۔ کیا اس نے بھی مخاطب کی ناگواری کوئی رعایت کی تھی ؟ ہرگز نہیں ۔ یاد رکھو کہ محض مخاطب کی ناگواری کوئی عذر نہیں ، حق تعالیٰ فرماتے ہیں :’’اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِیْن‘‘ کیا ہم تم کو نصیحت کرنے سے اس لئے پہلو تہی کرلیں کہ تم لوگ حد سے نکلنے والے ہو ۔حالانکہ حق تعالیٰ کے ذمہ امر بالمعروف واجب نہیں وہ اس سے پاک ہیں کہ ان پر کوئی بات واجب ہو ، لیکن پھر بھی وہ مخاطب کی ناگواری کی پرواہ نہیں کرتے ،یہی حکم ہم کو ہے ۔ (التواصی بالحق:ص ۱۸۰) اللہ کے بندے تو ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے لئے سختیاں برداشت کرتے ہیں ، اور