دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
فصل(۱) اصلاح کا عمدہ طریقہ اور عملی تبلیغ کی ضرورت اصلاح کا یہ طریقہ افضل ہے کہ جو کام دوسروں سے کرانا چاہتے ہو ان کو خود کرنے لگو۔(حسن العزیز:ص ۱۷۷؍ج۳) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے چھوٹے چھوٹے اعمال کا بہت اہتمام کیا اور کوئی امر چھوڑا نہیں ۔بلکہ ہر حکم کو عملاً کرکے دکھلادیا تاکہ سامع (مخاطب) پر زیادہ اثر ہو اور یہ اہتمام محض شفقت کی وجہ سے ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا اجازت کے (اندر)حاضر ہوگیا تو آپ نے اس کو لوٹادیا ۔اور ایک شخص کو حکم دیا کہ اس کو طریقہ بتلادو، کہ اس طریقہ سے آئے ۔اس سے معلوم ہوا کہ عملی تعلیم بھی سنت ہے ۔ (وجہ اس کی یہ ہے کہ )عملی فساد میں اصلاح بھی عملی ہونی چاہئے ۔محض قولی اصلاح کافی نہیں ،بلکہ عملی اصلاح کی ضرورت ہے۔ (حقوق وفرائض:ص ۱۴۲)عملی فساد میں قولی تبلیغ کافی نہیں ،عملی ،تبلیغ ضروری ہے فساد میں محض قولی اصلاح (زبان سے کہہ دینا) کافی نہیں بلکہ عملی اصلاح (یعنی عمل سے کرکے دکھلانا) بھی ضروری ہے ۔ مجھے بیوہ عورتوں کے نکاح کے متعلق پہلے بڑا شبہ تھا۔کہ علماء اس کی اس قدر کوشش کیوں کرتے ہیں ۔نکاح ثانی کوئی فرض واجب نہیں صرف سنت ہے ۔علماء صرف یہی کہہ دیں کہ سنت ہی سمجھنا واجب ہے ۔باقی عملاً اس کے درپے کیوں ہوتے ہیں ۔کئی سال تک