الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
:واعلموا انما غنمتم من شئی فان للہ خمسہ و للرسول ولذی القربیٰ والیتمی والمسکین وابن السبیل۔ , آیت: "جان لو کہ کوئی چیز جو غنیمت میں ہاتھ آئے اس کا پانچواں حصہ خدا کے لئے اور پیغمبر کے لئے اور رشتہ داروں کے لئے اور یتیموں کے لئے اور مسکینوں کے لئے اور مسافروں کے لئے ہے۔ " اس آیت سے یہ قاعدہ معلوم ہوا کہ مال غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں، چار حصے مجاہدین کو تقسیم کئے جائیں۔ اور پانچویں حصے کے پھر پانچ حصے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور ذوی القربی اور مساکین وغیرہ کے مصارف میں آئیں لیکن یہ تمام احکام نقد و اسباب سے متعلق تھے۔ زمین اور جائیداد کے لئے کوئی قاعدہ نہیں قرار پایا تھا۔ غزوہ بنی نضیر میں جو 5 ہجری میں واقع ہوا۔ سورۂ حشر کی یہ آیت اتری۔ :ما افاٗ اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ و للرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل الیٰ قولہ للفقرآء المھاجرین الزین اخر جو امن دیارھم الی قولہ والزین جاؤا من بعدھم۔ , آیت: "یعنی جو زمین یا جائیداد ہاتھ آئے وہ خدا اور پیغمبر اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور فقراء مہاجرین اور ان سب لوگوں کی ہے جو آئندہ دنیا میں آئیں۔ " اس سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ جو زمین فتح ہو وہ تقسیم نہیں کی جائے گی بلکہ بطور وقف کے محفوظ رہے گی اور اس کے منافع سے تمام موجودہ اور آئندہ مسلمان متمتع ہوں۔ یہ ہے حقیقت نفل غنیمت اور فے کی۔ ان احکام میں لوگوں کو چند مغالطے پیش آئے۔ سب سے پہلے یہ کہ لوگوں نے غنیمت اور فے کو ایک سمجھا، ائمہ مجتہدین میں سے امام شافعی رحمۃ اللہ کی بھی یہی رائے ہے اور ان کے مذہب کے موافق زمین مفتوحہ اسی وقت مجاہدین کو تقسیم کر دینی چاہیے۔ شام و عراق جب فتح ہوئے تو لوگوں نے اسی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ ممالک مفتوحہ تقسیم کر دیئے جائیں۔ چنانچہ عبد الرحمٰن بن عوف، زبیر بن العوام، بلا ل بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے سخت اصرار کیا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ مانے۔ اس پر (جیسا کہ ہم صیغہ محاصل میں لکھ ائے ہیں) بہت بڑا مجمع ہوا اور کئی دن