الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
و اما غیر ھٰولآء الاربعۃ فکانو یرون دلالۃً ولکن ما کان یمیزون الرکن الشرط من الاداب والسنن ولم یکن لھم قول عند تعارض الاخبار و تقابل الدلائل الاقلیلاً کابن عمر و عائشۃ و زید بن ثابت (حجتہ اللہ البالغہ صفحہ 7)۔ یعنی " ان چاروں کے سوا باقی جو لوگ تھے وہ مطالب سمجھتے تھے۔ لیکن آداب و سنن اور ارکان و شرائط میں امتیاز و تفریق نہیں کرتے تھے اور جہاں حدیثیں متعارض ہوتیں تھیں اور دلائل میں تقابل ہوتا تھا وہاں وہ بجز بعض موقعوں کے دخل نہیں دیتے تھے۔ مثلاً ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ " بہر حال مجتہدین صحابہ 6 سے زیادہ نہ تھے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہم صحبت اکثر وہ لوگ تھے جو فن حدیث و روایت میں بلند پایہ نہ تھے۔ صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں کے سوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جن لوگوں نے روایتیں کیں، ان پر اعتبار کیا جاتا تھا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تعلیم روایت کے لئے شام بھیجا تھا لیکن ان کا 18 ہجری میں انتقال ہو گیا۔ اس لئے جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے ، حدیث او چنداں باقی نماند۔ (ازالۃ اخفاء صفحہ 81 حصہ دوم)۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاص شاگردوں میں تھے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر تحریر کے ذریعے سے حدیث و فقہ کے مسائل تعلیم کرتے رہتے تھے۔ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی دراصل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقلد تھے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں، و زید بن ثابت نیز در اکثر متبع او ست۔ ان واقعات سے معلوم ہو گا کہ صحابہ میں جن جن لوگوں کی فقہ کی رواج ہو، وہ سب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تربیت یافتہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان مسائل فقہیہ میں جس قدر فکر اور خوض کیا تھا۔ صحابہ میں سے کسی نے نہیں کیا تھا۔ انہوں نے آغاز اسلام ہی سے فقہ کو مطمع نظر بنا لیا تھا۔ قرآن مجید میں جو مسائل فقہ مذکور ہیں ان میں جب ابہام ہوتا تھا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کر لیتے تھے اور جب تک پوری تسلی نہیں ہوتی تھی بس نہیں کرتے تھے۔ یہ بات اور اصحاب کو حاصل نہ تھی کیونکہ ان کے برابر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کہنے سننے کی جرات نہیں رکھتا تھا۔ کلالہ کے مسئلہ کو جو ایک دقیق اور نہایت مختلف فیہ مسئلہ ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے اس قدر بار بار دریافت کیا کہ آپ دق آ گئے اور فرمایا کہ سورہ نساء کی آخری آیت تیرے لئے کافی ہو سکتی ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل)۔