الفاروق مکمل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
"غالباً امیر المومنین کو خبر پہنچے گی تو وہ برا مانیں گے کہ ہم لوگ محلوں میں رندانہ صحبتیں رکھتے ہیں۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فوراً خبر ہوئی اور ان کو معزول کر کے لکھا کہ ہاں مجھ کو تمہاری یہ حرکت ناگوار گزری۔ (اسد البالغہ ذکر نعمام بن عدی)۔ صحابہ میں حزیفہ بن الیمان ایک بزرگ تھے جس کو اکثر مخفی باتوں کا پتہ لگ جاتا تھا۔ عہد نبوت میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے محرم راز تھے اور اسی وجہ سے صاحب السر کہلاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن ان سے پوچھا کہ منافقین کو جو گروہ ہے ان میں سے کوئی شخص میرے عمالوں اور عہدہ داروں میں بھی ہے ، انہوں نے کہا، ہاں ایک شخص ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نام پوچھا لیکن انہوں نے راز داری کے لحاظ سے نام نہیں بتایا۔ حذیفہ کا بیان ہے کہ اس واقع کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو معزول کر دیا۔ جس سے میں نے قیاس کیا کہ انہوں نے خود پتہ لگا لیا۔ (اسد الغابہ ذکر حذیفہ بن الیمان)۔ اسی تفحص اور بیدار مغزی کا اثر تھا کہ تمام افسر اور عمال ان کے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتے تھے۔ علامہ طبری لکھتے ہیں۔ و کانو کاید عون شیئا ولا یاتونہ الاوامر وہ ففہ (طبری صفحہ 2487)۔ "یعنی لوگ کوئی کام ان سے بغیر دریافت کئے نہیں کرتے تھے۔ "