دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
نہیں ہے وہ اپنی ذات میں کامل مکمل ہے ،اور کبھی اس میں ضعف نہیں آسکتا ۔ اسلام اس وقت ضعیف ہوسکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) خدا ضعیف ہوجائے، خداوند کریم کے ہوتے ہوئے اسلام کبھی ضعیف نہیں ہوسکتا ۔ یہ غلط محاورہ زبان پر چڑھا ہواہے کہ آج کل اسلام ضعیف ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اسلام کے ضعیف ہونے کے کیا معنی ہیں ؟ اگر مراد یہ ہے کہ اسلام جو قانون الٰہی ہے وہ ضعیف ہوگیا تو یہ بالکل غلط ہے ۔اور اگر یہ معنی ہیں کہ وہ اسلام جو ہماری ایک خاص صفت ہے وہ ضعیف ہوگیا یعنی ہم جو ایک صفت کے ساتھ متصف تھے اس میں کمی آگئی توتسلیم ہے مگر پھر سیدھی بات یہ کیوں نہ کہوں کہ آج کل ہم کمزور ہیں ۔ اسلام کے بارے میں ایسا لفظ کیوں کہو جس سے غلط معنی کا شبہ پڑتا ہے ، یہ کیوں کہتے ہو کہ اسلام کمزور ہوگیا ۔اس میں تو اسلام پر دھبہ آتا ہے ، ناظرین شبہ میں پڑتے ہیں ، وہ اس کا مطلب یہ سمجھیں گے کہ مذہب اسلام ہی ضعیف ہوگیا ۔(الاتمام لنعمۃ الاسلام ملحقہ محاسن اسلام:ص ۲۹) میں ایک مرتبہ رام پور ایک مدرسہ کے جلسہ میں گیا تھا ، ایک مولوی صاحب نے مجھ سے پہلے تقریر کی ۔دوران تقریر یہ کہا کہ اس وقت اسلام کی مثال اور اس کی حالت اس بیوہ عورت کی طرح ہوگئی ہے جس کا کوئی خبر گیر (پرسان حال) نہیں ، خاوند مرگیا ہے اب نہ کھانے کو ہے نہ پینے کو ، نہ رہنے سہنے کو ، چاروں طرف دیکھ رہی ہے کہ میرا بھی کوئی خبر گیراں (پرسان حال )ہے تو ایسے وقت میں اس کی مالی خدمت کرنا بے حد ضروری ہے ۔ مجھے یہ مثال بہت بری معلوم ہوئی ، ان کے بعد جب میں کھڑا ہوا ، تو میں نے اس کو رد کیا (اور یہ کہا )کہ اسلام بادشاہ ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ، بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں ، اس میں نہ مسکنت ہے نہ ذلت ہے، وہ بادشاہ ہے ۔اس میں کچھ نقص نہیں ۔دین جیسا تھا ویسا ہی ہے۔ ہاں !یہ کہو کہ ہم مسلمان اسلام کو چھوڑ کر بیوہ عورت کی طرح ہوگئے ہیں کہ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ، اسلام پر ثابت قدم رہتے تو خدا تعالیٰ ہمارا ناصر اور حامی ہوتا ۔اب کوئی بھی نہیں ۔ (الاتمام لنعمۃ الاسلام:ص ۶۶)