دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
ہے کہ مسلمانوں میں جہالت کے ساتھ نااتفاقی۔۔۔حد درجہ کی ہے اس حسد اور نااتفاقی کی بدولت اپنا آپ نقصان کئے لیتے ہیں ۔ غضب تویہ ہورہا ہے کہ بعض مبلغین دوسری جماعت کے مبلغین کی مذمت کرکے ان ناواقف بے خبر نومسلموں کو ان کی اتباع کرنے سے روکتے ہیں ۔ بھائی ! اس وقت تو اسلام کی مشترک تعلیم ضروری ہے عقائد وفروع کا اختلاف پھر دیکھا جائے گا ، یا اسلام کی بھی دوحیثیتیں بنالیں … ایک یہ کہ میں سکھائوں اس حیثیت سے اسلام برحق ہے ۔اور ایک یہ کہ تو سکھائے اس حیثیت سے برحق نہیں ۔اگر یہ ہے تو خیر تم ہی اسلام سکھائو ۔لیکن اگر اس حیثیت سے برحق نہیں ۔اگر یہ ہے تو خیر تم ہی اسلام سکھائو۔لیکن اگر اس حیثیت سے برحق نہیں ۔ اگر یہ ہے تو خیر تو ہی اسلام سکھائو۔ لیکن اگر خود ہمت نہ ہو، تو دوسروں کو سکھلانے دو، یہ کیا خرافات ہے کہ نہ خود سکھائو اور نہ کسی اور کو سکھانے دو؟ ہماری حالت یہ ہے کہ نہ خود کام کریں اور نہ کسی کام کرنے والے کو کرنے دیں ، (اور کام کرنے والوں میں ) عیب نکالتے ہیں کہ یہ تو بدمذہب ہیں بدعقیدہ ہیں اگر اس نے کسی کو مسلمان بنالیا ،وہ ایسا ہی ہوگا جیسا یہ ہے پھر ایسا مسلمان بنانے سے کیا فائدہ ؟۔ ارے بھائی! مسلمان توبنالینے دو، پھر تم جاکر اپنے عقائد سکھلادینا۔ بہر حال اتفاق کے ساتھ دعوت الی الاسلام کاکام کرنا نہایت اہم اور ضروری ہے ۔ (الدعوت الی اللہ :ص۶۲)