دعوت و تبلیغ کے اصول و احکام ۔ تصحیح شدہ جدید ایڈیشن |
ww.alislahonlin |
|
ہے۔ جو رزق کو اس کی طرف منسوب کرتی ہے اور فوراً چھری لے کر گائے کو ذبح کردیا ۔ کہ رزق کی نسبت گائے کی طرف کیوں کردی جیسے آج کل لوگ رزق کی نسبت دکان وغیرہ کی طرف کردیا کرتے ہیں ۔حالانکہ رزاق تو اللہ تعالیٰ ہے ۔مگر یہ ہے غلو اس لئے کہ سببیت کی ایسی نسبت تو اسباب کی طرف ہے خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ‘‘ آسمان سے پانی اتارا پھر اس پانی سے تمہارے کھانے کے لئے پھل نکالے ۔ یہ توحید میں غلو ہے( جس کی مذمت اور) ممانعت وارد ہوئی ہے سنت اور توحید میں افراط وتفریط کی بدولت ناواقف لوگوں میں سخت کشمکش ہوتی ہے ۔ (کلمۃ الحق:ص ۱۶۳)