احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
اگر اتنے پر بس نہیں تو اور سنو۔ سامانہ میں میری تبلیغ رسائل کے ذریعہ سے بخوبی ہوچکی۔ مگر مرزائی بدستور قرآن وحدیث سے مرتد بنے رہے۔ اس لئے اموات ذیل طاعون سے ہوئیں۔ غلام محمد ولد برکت خیاط، اﷲ دی زوجہ توماں خیاط۔ بی بی زوجہ چہجو خیاط۔ سوندہا ولد نبو خیاط۔ والدہ عطاء محمد خیاط۔ اہلیہ شیخ نور محمد۔ محمود پور جو سامانہ کے قریب ہے۔ اس میں حسب ذیل مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ پیرا ولد کریم بخش، نورمحمد ولد اﷲ بخش، کماں بانڈا، نور محمد ولد مولی، مسماۃ وزیراں زوجہ رحیم بخش، مسماۃ اسو زوجہ عبدالکریم۔ مرزائیاں ذیل کی نسبت یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر بوڑیخاں، مولوی برہان الدین جہلمی، قاضی ضیاء الدین، ملاں جمال الدین سیدوالہ، حکیم فضل الٰہی، مرزایعقوب بیگ کا بہنوئی، مرزاافضل بیگ وکیل اور اس کاکنبہ، معراج الدین عمر کی والدہ، حکیم محمد حسین قریشی کی لڑکی، ڈنگہ کا حافظ، مولوی محمد علی ساکن زیر ضلع فیروزپور، مولوی نور احمد ساکن لودی ننگل۔ جو مرزائی طاعون سے مرتا ہے اس کا نام دعائے جنازہ کے واسطے بھی اخبارات الحکم والبدر میں شائع نہیں ہوتا۔ کیا کوئی مرزائی حوصلہ کر کے کل فوت شدہ مرزائیوں کی تعداد شائع کر سکا ہے۔ تاکہ پبلک اندازہ لگا سکے کہ مرزائیوں میں تو فیصدی اموات کس قدر ہوئیں۔ باقی مسلمانوں اور ہندوؤں میں کس قدر۔ مرزائیوں کا پتہ تو مرزائیوں سے ہی لگ سکتا ہے۔ باقیوں کا نمبر جو اخبارات میں شائع ہوچکا حسب ذیل ہے۔ ۱۸۹۶ء میں ۱۷۰۴۔ ۱۸۹۷ء میں ۵۶۰۰۰۔ ۱۸۹۸ء میں ۱۱۸۰۰۰۔ ۱۸۹۹ء میں ۱۳۵۰۰۰۔ ۱۹۰۰ء میں ۹۳۰۱۰۔ ۱۹۰۱ء میں ۲۷۴۰۰۰۔ ۱۹۰۲ء میں ۵۷۷۰۰۰۔ ۱۹۰۳ء میں ۵۱۰۰۰۔۵ ۱۹۰۴ء میں ۱۰۲۲۰۰۰۔ ۱۹۰۵ء میں ۹۵۱۰۰۰۔ ۱۹۰۶ء میں ۳۳۲۰۰۰۔ ۱۹۰۷ء میں ۱۰۶۰۰۶۷۔ مرزائیو! اظہار حق کا حوصلہ کرو گے یا گول مول دعوؤں اور اناپ شناپ پٹیاروں میں ہی خیر مناؤ گے۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ میراکوئی مخلص مرید طاعون سے نہ مرے گا۔ کیا یہ سب جو مر گئے منافق تھے اور جو بچیں گے وہی مخلص ہوں گے۔ باقی سب منافق۔ ۲۳… دہلی والی شادی کی نسبت پیش گوئی۔ ’’الحمدﷲ الذی جعل لکم الصہر وانسب‘‘ تمام حمد اﷲ کے واسطے ہے۔ جس نے تمہارے واسطے ناتے اور نسب بنائے۔ اس میں دہلی والی شادی کی طرف اشارہ کہاں ہے۔