احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
گھوڑے پر سوار تیزی کے ساتھ دوڑائے جا رہا ہے اور میں ایک پیپل کے درخت کے نیچے کھڑا ہوں۔ اس کی تعبیر ظاہراً یہ ہے کہ پیپل کا درخت اسلام ہے۔ مرزاقادیانی کو اس سے کچھ تعلق نہیں اور چندوں سے موٹا تازہ ہوکر اپنے نفس کے راستہ پر سوار چلا جا رہا ہے۔ تمام خوابات متذکرہ بالا الذکر الحکیم نمبر:۱ میں درج ہیں۔ جو ۱۸۹۱ء میں چھپا تھا۔ الذکر الحکیم نمبر:۴ کا دوسرا خط جب میں نے لکھا تو اس سے پہلی رات کو مجھے نہایت صفائی کے ساتھ یہ الہام ہوا۔ ’’یا ایہا النفس مطمئنۃ الرجعی الی ربک راضیئۃ مرضیۃ۰ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ اے نفس اطمینان یافتہ تو اپنے رب کی طرف واپس آ۔ تو اس کو خوش کرنے والا اور وہ تجھے خوش کرنے والا ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں داخل ہو۔ گویا کہ مرزاقادیانی کے مخالف ہونا، انسان پرست جماعت سے نکل کر خدا پرستوں میں داخل ہونا اور جنت میں داخل ہونا تھا۔ برہنہ مرزائی، برہنہ لاش پھر اسی رات کومرزاقادیانی مشن کا خاکہ دکھایا گیا کہ چند برہنہ مرزائی ہیں جو ایک سیاہ ننگی نعش کو اٹھائے جاتے ہیں اور کہتے ہیں عیسیٰ آگیا، عیسیٰ مر گیا، عیسیٰ آگیا، عیسیٰ مر گیا۔ الذکر الحکیم نمبر:۴ کی نسبت الہام ہوا… دجالی فتنہ تیرے ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گا۔ مرزاقادیانی کی نسبت الہام ہوا۔ ’’فریقاً کذبتم وفریقاً تقتلون‘‘ مرزاقادیانی نے جو میری ہلاکت کا الہام شائع کیا اور رو رو کر میرے برخلاف بددعائیں کیں تو اس کے مقابلہ پر مجھے یہ الہامات ہوئے۔ سرداد ونداد ست در دست یزید۔ آسماں بار امانت نتوانست کشید۔ لا جرم قرعہ بنام من دیوانہ زدند۔ تمام خوابات والہامات متذکرہ بالا الذکر الحکیم نمبر:۴ میں درج ہیں۔ ذیل میں بے شمار خوابات میں سے چند ایک اور درج کرتا ہوں۔ اوّل… وہ خوابات والہامات جن میں مرزاقادیانی کی تباہی اور ہلاکت کی خبر ہے اور اپنی سلامتی وعزت کی: مرزاقادیانی کذاب ۱… ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء۔ مرزاقادیانی مصرف ہے، کذاب ہے اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتلائی گئی۔