احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
مطابق قادیان کی پاک سرزمین سے نکال کر ربوہ کی لعنتی سرزمین میں لادفن کیا ہے۔ وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ ’’پسر موعود‘‘ اور ’’زوجہ موعود‘‘ کے ربط وضبط کے بارے میں بھی ایسی ناگفتنی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ میرے جیسے بندے کو بھی جو قادیانی خلفاء سے لے کر جہلا تک کی ساری کرتوتوں کے سلسلے میں کسی اشتباہ کا شکار نہیں، تذبذب کی کیفیت سے دوچار ہو کر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے اور صرف یہی خیال آتا ہے کہ آدمی جب گناہ کی دلدل میں دھنستا ہے تو پھر اس حد تک کیوں دھنستا چلا جاتا ہے کہ جب تک اسفل السافلین کے مقام پر نہ پہنچ جائے اس وقت تک اسے چین نہیں آتا۔ ملک عزیزالرحمن صاحب گھر کے بھیدی تھے۔ اس لئے تیقن کے مقام پر پہنچنا ان کے لئے کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ لیکن جب وہ اپنی تحقیق عارفانہ سے مرزامحمود احمد اور اس شوق فروزاں کے متعلق ٹھوس معلومات ملنے اور مشاہدات سے اسے مزید پختہ کرنے تک پہنچ گئے تو پیریت کی زنجیروں کو ایک جھٹکے سے توڑنے کے لئے انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ عظمت بیگم کو استرا دے کر قصر خلافت بھجوادیا اور کہا اگر حضرت صاحب دست درازی کی کوشش کریں تو پھر انہیں آلہ واردات سے ہی محروم کر دینا۔ لیکن خلیفہ صاحب بھی گرگ باراں دیدہ تھے اور انہوں نے اپنی معصیتوں کو چھپانے کا بڑا فرعونی نظام وضع کر رکھا تھا۔ تلاشی لی گئی اور عظمت بیگم سے استرا برآمد ہوگیا اور ملک صاحب کو ان کے پورے خاندان سمیت ربوہ بدر کر دیا گیا۔ صالح نور نے مجھے بتایا کہ میں نے ازراہ مذاق ملک صاحب سے پوچھا کہ آپ اس کے موالید ثلاثہ یعنی تھبولاناتھ کوکیوں کٹوانا چاہتے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک عملی ثبوت بھی ہوتا اور ویسے بھی ایک نادر چیز ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمت کروڑوں سے کم نہ ہوتی اور میں تو اسے سرکے کی بوتل میں ڈال کے رکھتا۔ تکبیر اور ذبیحہ میں نے مباہلہ والے زاہد سے پوچھا کہ حکیم عبدالوہاب جو نورالدین کے بیٹے ہیں، وہ تو مرزامحمود احمد کی تمام رنگینیوں کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے بھائی عبدالمنان عمر بڑی پراسرار خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں۔ کیا انہیں علم نہیں کہ مرزامحمود احمد ایک بدکردار آدمی تھے تو وہ کہنے لگے کہ میں اب بڑھاپے کی اس منزل میں ہوں۔ جہاں اس قسم کی باتوں کے کرنے سے انسان طبعاً حجاب کرتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک صداقت کا اظہارہے۔ اس