احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
باب نمبر:۳ مرزامحمود احمدکے افراد خانہ اور اعزہ کے حلفیہ بیانات خلیفہ مرزامحمود احمد کا اپنا اقرار فرانس کے نیم عریاں کلبوں کی سیر مرزامحمود نے اپنے ایک خطبہ میں خود اقرار کیا: ’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا۔ قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اﷲ خان سے جومیرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے۔ مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۲۴ء) احمدی حضرات کی خدمت میں عرض کروں گا کہ وہ کون سی شریعت ہے جس کی رو سے یہ جائز ہوکہ محض یورپین تہذیب دیکھنے کے لئے نیم عریاں کلبوں کی سیر کی جائے۔ یہ محض تماش بینی تھی جس کے لئے خلیفہ ۱۹۲۴ء میں یورپ گئے تھے۔ اس کے بعد روفو کا واقعہ بھی اس بات کی دلالت کرتا ہے۔ احمدی حضرات کی خدمت میں گزارش کروں گا۔ ان واقعات پر غور کریں اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔ حکیم عبدالوہاب سالا مرزامحمود احمد کی شہادت ۱… حکیم عبدالوہاب مولوی نورالدین (پہلے سربراہ جماعت احمدیہ) کے بیٹے اور مرزامحمود احمد کے سالے تھے۔ جسمانی لحاظ سے مضبوط، درمیانہ قد، رنگ گندمی، موٹی آنکھیں، ایک ہی نظر میں عورت کو اپنی طرف مائل کر لیتے تھے یا عورت مائل ہو جاتی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا مطب جودھامل بلڈنگ بالمقابل رتن باغ حال میو ہسپتال میں تھا۔ تقسیم کے بعد ضمیر کی آزادی نصیب ہوئی تو حکیم صاحب ان احباب میں سے ایک تھے جنہوں نے مرزامحمود احمد کے عیوب کی خوب